LIVE
Loading Breaking News...

ویکسین سے متعلق نیا ایگزیکٹو آرڈر اور طبی ماہرین کے خدشات

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 اگست 2026 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس میں خسرہ، کنپیڑے اور روبیلا کی مشترکہ ویکسین کو تین الگ الگ خوراکوں میں دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم بچوں کو محفوظ رکھنے والے شواہد پر مبنی روایتی نظام کو نظر انداز کرتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 10 اگست 2026 کو دستخط کیے جانے والے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر نے طبی اور سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس آرڈر میں خسرہ، کنپیڑے اور روبیلا (ایم ایم آر) کی مشترکہ ویکسین کو ایک ہی وقت میں دینے کے بجائے تین الگ الگ ملاقاتوں میں تین مختلف انجکشنز کے ذریعے دینے کی بات کہی گئی ہے۔ طبی ماہرین اور سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام اس آزمودہ اور شواہد پر مبنی عمل کو بائی پاس کرتا ہے جو کئی دہائیوں سے بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ایم ایم آر ویکسین کو یکجا دینا نہ صرف بچوں اور والدین کے لیے زیادہ سہولت بخش ہے بلکہ یہ بروقت حفاظتی ٹیکہ جات کے حصول کو بھی یقینی بناتا ہے۔ الگ الگ شاٹس کی صورت میں بچوں کو ڈاکٹر کے پاس زیادہ بار لے جانا پڑے گا، جس سے ویکسینیشن کا عمل ادھورا رہ جانے یا اس میں تاخیر ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے قبل تمام بڑی طبی تنظیمیں اس مشترکہ ویکسین کی افادیت اور حفاظت کی باقاعدہ تصدیق کر چکی ہیں اور اسے طبی اصولوں کے عین مطابق قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ایگزیکٹو آرڈر کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے صحت کے معاملات میں مزید شفافیت آتی ہے اور والدین کو اپنے بچوں کی طبی دیکھ بھال کے بارے میں مزید اختیارات ملتے ہیں۔ تاہم، پبلک ہیلتھ کے ماہرین اس بات پر شدید پریشان ہیں کہ سیاسی یا انتظامی سطح پر اس طرح کے فیصلے کیے جانے سے عوامی سطح پر ویکسینز کے حوالے سے غیر ضروری ہچکچاہٹ اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جو طویل مدت میں معاشرے کی اجتماعی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کے بعد دنیا بھر کے ماہرینِ امراضِ اطفال اور طبی محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ویکسینیشن کی پالیسیاں محض سیاسی فیصلوں کی بجائے مکمل طور پر سائنسی شواہد، طبی ڈیٹا اور حفاظتی اصولوں کی بنیاد پر بنائی جانی چاہئیں تاکہ بچوں کی صحت کو کسی بھی قسم کے غیر ضروری خطرے سے بچایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس ایگزیکٹو آرڈر کے نفاذ اور اس کے طبی نظام پر پڑنے والے اثرات کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔