Politics
ڈونلڈ ٹرمپ پر ٹروتھ سوشل پوسٹس کی فیس وصولی پر مقدمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نیویارک میں ایک نیا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں ان کی جانب سے ٹروتھ سوشل کی اہم پوسٹس تک جلدی رسائی حاصل کرنے کے عوض فیس وصول کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ میڈیا گروپس کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے مارکیٹ اور عوام کو نقصان پہنچتا ہے اور معلومات کی یکساں فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر قانونی چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ کے دو اہم میڈیا گروپس نے ان پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' کی ان پوسٹس تک قبل از وقت رسائی کے عوض فیس وصول کرنے کے متنازعہ منصوبے کے خلاف دائر کیا گیا ہے جو اکثر امریکی مالیاتی اور کاروباری مارکیٹ پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ نیویارک کی عدالت میں دائر کی جانے والی اس قانونی چارہ جوئی میں 'دی انٹرسیپٹ' اور دیگر میڈیا اداروں نے حصہ لیا ہے۔ میڈیا گروپس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام غیر منصفانہ تجارتی عمل اور عوامی معلومات کے اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کو متاثر کرنے والی اہم سیاسی اور معاشی نوعیت کی معلومات چند مخصوص افراد یا اداروں کو فیس کے عوض پہلے فراہم کرنا شفافیت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس مقدمے نے واشنگٹن اور نیویارک کے سیاسی اور میڈیا کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ کے کاروباری یا ڈیجیٹل اقدامات کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہو۔ ماہرین قانون کے مطابق، اس مقدمے کے نتیجے میں یہ بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے کہ ایک عوامی منصب پر فائز شخص کس حد تک اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ٹروتھ سوشل جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا قائم کردہ پلیٹ فارم ہے، ان کی صدارتی مہم اور سیاسی بیانیے کا ایک اہم ترین ذریعہ رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر کی جانے والی پوسٹس اکثر شیئر بازار اور بڑے کاروباری فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مدعی میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ عام شہریوں اور صحافیوں کو ان معلومات سے محروم رکھنا یا انہیں مالی بوجھ کے ساتھ مشروط کرنا فری پریس اور عوامی مفاد کے بنیادی اصولوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ عدالت اب اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ کاروباری ماڈل قانونی حدود کے اندر ہے یا اس سے اختیارات کے غلط استعمال کا زمرہ بنتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں جو امریکی سیاست اور میڈیا کی آزادی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔