LIVE
Loading Breaking News...

حیاتیاتی جریدے کی طرف سے جعل سازی پر مقالے واپس لینے کا اقدام

News Image
ایلسیویر کے نامور سائنسی جریدے نے خصوصی شماروں میں ہم آہنگ جائزہ کے عمل میں جعل سازی کا انکشاف کرتے ہوئے ایک سو سے زائد مقالے واپس لے لیے ہیں۔ ناشر کے مطابق اس سلسلے میں مزید کارروائی جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید واپسی متوقع ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سائنسی تحقیقات کے معروف اشاعتی ادارے ایلسیویر کے جریدے 'انٹرنیشنل جرنل آف بایولوجیکل میکرو مویکیولز' نے ایک بڑے اقدام کے تحت سو سے زائد تحقیقی مقالے واپس لے لیے ہیں۔ جریدے کی جانب سے یہ سخت قدم خصوصی شماروں میں ہم آہنگ جائزہ کے عمل میں کی جانے والی جعل سازی اور بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ سائنسی اشاعت کی دنیا میں اس طرح بڑے پیمانے پر مقالوں کی واپسی کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ادارے کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ تمام مسائل مہمان مدیران کے تحت شائع ہونے والے خصوصی شماروں میں سامنے آئے۔ تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی کہ ان شماروں کے دوران ہم آہنگ جائزہ کے نظام کو متاثر کیا گیا تھا تاکہ مخصوص اور غیر معیاری مواد کو اشاعت کی اجازت مل سکے۔ سائنسی تحقیق کی شفافیت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ناشر نے ان تمام مقالوں کو حذف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جون کے مہینے سے شروع ہونے والی اس کارروائی کے نتیجے میں اب تک ایک سو سے زائد مقالے باضابطہ طور پر واپس لیے جا چکے ہیں، جبکہ ناشر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید ایک مقالے کی واپسی پر بھی کام جاری ہے جو جلد سامنے آجائے گی۔ سائنسی برادری نے اس قدم کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ جعلی یا نقائص سے بھرپور تحقیق نہ صرف اکیڈمک دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس سے عام فہم طبی اور حیاتیاتی پیشرفت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد دنیا بھر کے سائنسی جرائد کو اپنے خصوصی شماروں کے لیے مہمان مدیران کے انتخاب اور جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علمی دنیا میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے تاکہ سائنسی تحقیق کی غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھی جا سکے۔