AI
مصنوعی ذہانت کے دور میں محفوظ ترین دس نوکریاں
ریسکیو ناو کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں ان دس شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے کوئی خطرہ نہیں۔ یہ تمام پیشے انسانی جذبات، تخلیقی صلاحیت اور گہرے باہمی رابطے پر منحصر ہیں۔
جیسے جیسے کام کی جگہوں پر مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے، دنیا بھر کے ملازمین میں یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ آیا مستقبل میں ان کے پیشے محفوظ بھی رہیں گے یا نہیں۔ اس بڑھتے ہوئے خدشے کے پیش نظر آن لائن ریزوم بلڈر 'ریسکیو ناو' نے 10 جولائی کو ایک اہم درجہ بندی جاری کی ہے، جس میں ان پیشوں کو نمایاں کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے اثرات سے محفوظ اور ناقابلِ تسخیر ہیں۔ ان تمام پیشوں میں ایک بنیادی قدر مشترک ہے جو انہیں اے آئی کی پہنچ سے دور رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ تمام نوکریاں ایسی ہیں جن میں انتہائی پیچیدہ انسانی فیصلے، گہرے جذبات، باہمی اعتماد اور اعلیٰ درجے کی تخلیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، وہ ان انسانی خصوصیات اور نرم صلاحیتوں (soft skills) کی نقل کرنے سے قاصر ہے۔ ان پیشوں میں وہ شعبے شامل ہیں جہاں براہ راست انسانی تعلق اور دیکھ بھال سب سے اہم عنصر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، نفسیاتی مشاورت، سماجی بہبود، قیادت اور حکمت عملی سازی کے شعبے ایسے ہیں جہاں مشینوں کے لیے انسانوں کی جگہ لینا ناممکن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جاب مارکیٹ میں وہ لوگ سب سے زیادہ کامیاب رہیں گے جو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنی ان فطری انسانی صلاحیتوں کو نکھاریں گے۔ یہ رپورٹ ان تمام افراد کے لیے ایک اطمینان بخش پیغام ہے جو اے آئی کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظر نامے میں اپنے کیریئر کے حوالے سے پریشان ہیں۔