LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں، آبنائے ہرمز کے تنازع کا اثر

News Image
آبنائے ہرمز میں جاری تعطل اور عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں کمی کے بعد تیل کی قیمتوں کے حوالے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور طلب و رسد کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کا حالیہ تسلسل اس وقت دباؤ کا شکار ہو گیا ہے جب آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کے حوالے سے صورتحال بدستور پیچیدہ ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تیل کے دستیاب ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس نے توانائی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ امریکی اور ایرانی مؤقف میں تفاوت اور توازن نہ ہونے کی وجہ سے اس اہم آبی گزرگاہ سے ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی کم رفتار اور تعطل کی وجہ سے تیل کی سپلائی لائنز متاثر ہو رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے مطالبات اور شرائط نے منڈی میں امیدوں کو دھندلا دیا ہے، جس کے باعث حالیہ دنوں میں قیمتوں میں چار فیصد تک کا اضافہ بھی دیکھا گیا تھا۔ تاہم، سرمایہ کار اب بھی اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ تنازعہ مزید طوالت اختیار کرے گا یا سفارتی سطح پر کوئی حل نکل آئے گا۔ دوسری جانب، طلب میں کمی کے رجحان اور معاشی اعشاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی منڈی میں کچھ روز کے اضافے کے بعد دوبارہ کمی کا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں سست روی اور طلب میں کمی کے باوجود آبنائے ہرمز کا بحران قیمتوں کو کسی بھی سمت دھکیل سکتا ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء موجودہ حالات میں انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ کسی بھی وقت پالیسی یا زمینی حقائق میں تبدیلی بڑی قیمتوں کے جھٹکوں کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومتی اور تجارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ توانائی کی سپلائی کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں بحران حل نہ ہوا تو عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشتوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات اور اوپیک ممالک کے فیصلوں پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔