World
غزہ میں برگر کنگ کے برطرف ملازم کے اعزاز میں مورل کی تخلیق
فلسطین کے حق میں نعرہ لگانے پر نوکری سے نکالے جانے والے برگر کنگ کے سابق ملازم کے اعزاز میں غزہ کے فنکاروں نے ایک شاندار دیوار پینٹ کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر انصاف کے لیے اٹھنے والی آوازوں سے اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔
غزہ کے مقامی فنکاروں نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے اور فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک انوکھا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر، غزہ کے پینٹرز نے برگر کنگ کے سابق ملازم آریان ہملٹن کی تصویر ایک بڑی دیوار پر بنائی ہے جنہیں صرف اس لیے نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے 'فلسطین آزاد کرو' کے حق میں نعرہ لگایا تھا۔ یہ اقدام غزہ کے محاصرے اور مشکلات کے باوجود دنیا کے کونے کونے سے آنے والی حمایت کا اعتراف کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
آریان ہملٹن کا تعلق امریکہ سے ہے اور ان کا یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا تھا۔ برگر کنگ کے ایک آؤٹ لیٹ پر کام کرنے کے دوران انہوں نے فلسطینی کاز سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا جس پر انتظامیہ نے سخت اقدام کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا۔ غزہ کے مصوروں نے اس واقعے کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین حالات میں بھی سچائی کا ساتھ دینے والے ایسے افراد پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں اور فلسطینی عوام ان کے احسان مند ہیں۔
اس دلکش دیوار سازی (مورل) کو دیکھنے کے لیے مقامی شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اس اخلاقی حمایت کو سراہا۔ فنکاروں کا کہنا تھا کہ آرٹ کے ذریعے وہ دنیا تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ غزہ کے لوگ تنہا نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر کے باشعور انسان ان کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ برطرفی کے باوجود آریان ہملٹن کا مؤقف عالمی میڈیا میں شہ سرخیوں میں رہا اور اس مورل نے اس رشتے کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔