LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ، جانی نقصان اور تازہ ترین صورتحال

News Image
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی تباہ کن وباء کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ علاقوں کا دائرہ کار اب چھٹی صوبے تک پھیل گیا ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی خطرناک وباء ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور موصولہ اطلاعات کے مطابق اس مہلک وائرس کا پھیلاؤ اب چھٹی صوبے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب تک اس وباء کی وجہ سے دو ہزار ایک سو اٹھائیس (2,128) افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ کل ریکارڈ شدہ کیسز کی تعداد چار ہزار پانچ سو چھیاسٹھ (4,566) تک پہنچ چکی ہے۔ صحت کے حکام کے لیے اس وباء کا نئے علاقوں میں پھیلنا ایک انتہائی تشویشناک امر بن گیا ہے۔ حکومتی اور بین الاقوامی طبی امدادی ادارے اس وباء پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی کے مسائل، دور دراز مقامات اور مقامی سطح پر طبی ٹیموں کے ساتھ تعاون کی کمی اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور خطے میں انسانی بحران گہرا ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر فلاحی تنظیمیں متاثرہ صوبوں میں ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے اور عوام میں اس بیماری سے بچاؤ کے لیے آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ طبی عملہ دن رات اس موزم مرض کے خلاف برسرِ پیکار ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ عوام سے بھی اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔