LIVE
Loading Breaking News...

این آئی ایس ٹی کا ڈیجیٹل سکیورٹی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا منصوبہ

News Image
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی نے ڈیجیٹل کمزوریوں کے مرکزی ذخیرے کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک نئی معلومات کی درخواست جاری کی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) نے اپنے مرکزی ڈیجیٹل کمزوریوں کے ذخیرے، جسے نیشنل ولنربلٹی ڈیٹا بیس (NVD) کہا جاتا ہے، کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد سائبر سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل سسٹمز کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، اس حوالے سے ایک باضابطہ درخواست برائے معلومات (RFI) جاری کی گئی ہے جس کا مقصد جدید ترین تکنیکی حل تلاش کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے این آئی ایس ٹی کا ہدف ڈیٹا بیس کی کارکردگی کو تیز کرنا اور سکیورٹی سے متعلقہ خامیوں کی نشاندہی کے عمل کو خودکار بنانا ہے تاکہ ماہرین کو بروقت درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں روز بروز نئے خطرات جنم لے رہے ہیں، جن کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی طریقے اب ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے نفاذ سے نہ صرف سکیورٹی کے نفاذ میں تیزی آئے گی بلکہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ بھی زیادہ درستگی کے ساتھ ممکن ہو سکے گا، جس سے عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے معیارات میں بہتری آئے گی۔ یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارے اب جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کو اپنے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنانے میں سنجیدہ ہیں۔ متوقع تجاویز کے بعد، اس منصوبے کے عملی نفاذ کے لیے جلد ہی مزید لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جس سے پوری دنیا میں ڈیجیٹل سکیورٹی کے شعبے پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔