Health
الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا انڈے فریز کروانے کا اعلان
امریکی کانگریس کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے مستقبل کے لیے اپنے انڈے فریز کروا لیے ہیں۔ یہ رجحان گزشتہ ایک دہائی سے امریکہ میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور ہزاروں خواتین اس عمل کا حصہ بن رہی ہیں۔
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان کی معروف رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (AOC) نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک اہم ذاتی اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے بھی ہزاروں دیگر امریکی خواتین کی طرح اپنے انڈے فریز (Egg Freezing) کروا لیے ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر اپنے اس فیصلے سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا ذاتی انتخاب ہے جو انہوں نے اپنے مستقبل کے تحفظ اور خاندانی منصوبہ بندی کے لیے کیا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ایک بار پھر اس طبی اور سائنسی موضوع پر کھل کر بات چیت شروع ہو گئی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ میں انڈے فریز کروانے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جدید طبی ٹیکنالوجی اور بہتر ہوتے ہوئے طبی طریقہ کار کی وجہ سے اب زیادہ تر خواتین اپنے کیریئر، ذاتی ترجیحات یا صحت کے دیگر مسائل کی بنیاد پر اس مرحلے کا انتخاب کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ عمل خواتین کو حیاتیاتی گھڑی کے دباؤ سے آزاد کرتا ہے اور انہیں اپنی زندگی کے فیصلوں میں زیادہ خودمختاری فراہم کرتا ہے، خاص طور پر اس دور میں جہاں پیشہ ورانہ زندگی کی مصروفیت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کی جانب سے اس فیصلے کو عوامی سطح پر شیئر کرنے کو ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے اس موضوع سے جڑے ہوئے سماجی ٹیبو اور خاموشی کو توڑنے میں مدد ملتی ہے۔ عام طور پر تولیدی صحت اور انڈے فریز کروانے جیسے امور پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن ایک نمایاں سیاسی شخصیت کی طرف سے اس پر بات کرنا اس عمل کو عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ فہم اور قابلِ قبول بناتا ہے۔
اس عمل کے بڑھتے ہوئے رجحان نے طبی ماہرین اور اخلاقیات کے نگران اداروں کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے۔ اگرچہ طبی لحاظ سے یہ طریقہ کار محفوظ تصور کیا جاتا ہے، تاہم اس کے اخراجات اور جذباتی اثرات کے حوالے سے اب بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ خواتین اب اپنی تولیدی صحت کے حوالے سے زیادہ باشعور اور فعال فیصلے لے رہی ہیں، اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا یہ بیان اس سمت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔