LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکساس گندا پانی تنازع: برطرف جج کا بیان سامنے آ گیا

News Image
ٹیکساس میں گندے پانی کے مسائل پر آواز اٹھانے والی برطرف جج نے حالیہ تنازع پر کھل کر بات کی ہے۔ اس واقعے نے پورے قصبے میں ہلچل مچا دی ہے اور انتظامیہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں گندے پانی کے سنگین مسئلے پر آواز اٹھانے والی ایک برطرف جج نے اس پورے اسکینڈل پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک مقامی ماں اور جج نے فیس بک کے ذریعے قصبے میں آنے والے رنگ تبدیل شدہ اور گندے پانی کے خلاف شکایات جمع کرنا شروع کیں۔ اس اقدام پر پولیس نے مبینہ طور پر انہیں گرفتار کر لیا تھا، جس کے بعد پورے علاقے میں ایک طوفان بدتمیزی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور آواز اٹھانے والوں کو دبانے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس پورے تنازع نے اب ایک بڑے فائر اسٹور کی شکل اختیار کر لی ہے جہاں قصبے کے باسی اپنی منتخب حکومت اور انتظامیہ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ برطرف جج نے اپنے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ عوام کو صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھنا اور پھر حق سچ بولنے پر قانونی کارروائی کی دھمکیاں دینا سراسر ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق، انہوں نے صرف وہی کیا جو ایک ذمہ دار شہری اور عہدیدار کا فرض بنتا ہے، یعنی عوام کی شکایات کو متعلقہ حکام تک پہنچانا اور اس کے حل کے لیے آواز بلند کرنا۔ اب اس معاملے پر قانونی اور سیاسی حلقوں میں بھی گرما گرم بحث جاری ہے جبکہ سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی متاثرہ جج کی حمایت میں سامنے آ گئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ کو شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے بصورت دیگر عوامی احتجاج میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ قصبے کے مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پانی کے نظام کی جانچ کی جائے اور اس اسکینڈل میں ملوث ذمہ داران کے خلاف کڑی کارروائی عمل میں لائی جائے۔