LIVE
Loading Breaking News...

الاباما ایریا 51 کے نیچے نئی اندھی ڈیمن مچھلی دریافت

News Image
سائنسدانوں نے الاباما کے ایک انتہائی خفیہ ملٹری بیس کے نیچے غاروں میں رہنے والی مچھلی کی ایک بالکل نئی اور انوکھی قسم دریافت کی ہے۔ اس اندھی اور عجیب الخلقت مخلوق کو 'ڈیمن کیو فش' کا نام دیا گیا ہے جو زیر زمین ماحولیات کے حوالے سے اہم انکشافات کرتی ہے۔
سائنسدانوں نے الاباما میں واقع ایک انتہائی خفیہ اور حساس ملٹری بیس، جسے عام طور پر الاباما کا 'ایریا 51' کہا جاتا ہے، کے زیر زمین پانیوں سے جانداروں کی ایک نئی اور حیرت انگیز قسم دریافت کی ہے۔ اس منفرد غار میں رہنے والی مچھلی کو محققین نے 'ڈیمن کیو فش' کا نام دیا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام Demogorgonichthys arcanus رکھا گیا ہے۔ اس دریافت نے حیاتیات کے ماہرین کو دنگ کر دیا ہے کیونکہ یہ مخلوق انتہائی تاریک اور مشکل ترین زیر زمین حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ محققین کے مطابق، یہ نئی دریافت ہونے والی مچھلی بینائی سے محروم ہے یعنی اندھی ہے، جو کہ زیر زمین غاروں میں پائے جانے والے جانداروں کی ایک عام خصوصیت ہے۔ روشنی نہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کے جانداروں کی آنکھیں وقت کے ساتھ ارتقائی عمل کے تحت ختم ہو جاتی ہیں، تاہم ان کے دیگر حسی اعضاء انتہائی تیز ہو جاتے ہیں تاکہ وہ تاریکی میں شکار تلاش کر سکیں اور اپنے ماحول کو محسوس کر سکیں۔ اس مچھلی کا ظشری اور جسمانی ڈھانچہ بھی عام مچھلیوں سے کافی مختلف اور منفرد ہے، جس نے سائنسدانوں کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ حیرت انگیز دریافت ایک ایسے علاقے میں ہوئی ہے جو اپنی عسکری رازداری اور سخت سکیورٹی کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہنٹسویل کے قریب واقع اس مقام پر عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے، جس کی وجہ سے وہاں کا زیر زمین ماحولیاتی نظام طویل عرصے تک انسانی نظروں سے اوجھل رہا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے خفیہ اور نایاب ماحولیاتی نظام اس بات کا ثبوت ہیں کہ زمین کی گہرائیوں میں اب بھی ایسی لاتعداد مخلوقات موجود ہیں جن کے بارے میں انسانی علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماہرین حیاتیات اب اس 'ڈیمن کیو فش' کے ڈی این اے اور طرز زندگی پر مزید گہرائی سے تحقیق کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ جاندار لاکھوں سالوں سے ان سخت حالات میں کیسے زندہ رہے اور ان کا ارتقاء کیسے ہوا۔ اس تحقیق سے نہ صرف زیر زمین حیات کے بارے میں اہم معلومات ملیں گی بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کرہ ارض پر نامساعد حالات میں بھی زندگی کیسے پنپتی ہے۔