LIVE
Loading Breaking News...

وفاقی عدالت کا فیصلہ، انشورنس کمپنیاں کوالیفائنگ پیمنٹ اماؤنٹ درست کریں گی

News Image
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے نو سرپرائزز ایکٹ کے تحت کوالیفائنگ پیمنٹ اماؤنٹ کے غلط حساب کتاب کو مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے انشورنس کمپنیوں پر لازم ہو گا کہ وہ درست اور حقیقی ریٹس کا تعین کریں۔
امریکہ میں صحت کی انشورنس کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ایک وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں نو سرپرائزز ایکٹ کے نفاذ میں درپیش مسائل کی اصل وجہ غیر قانونی طور پر شمار کیے جانے والے کوالیفائنگ پیمنٹ اماؤنٹ (QPAs) کو قرار دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے اس حکم کے بعد تمام متعلقہ انشورنس کمپنیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نرخوں کے حساب کتاب کے طریقہ کار میں اصلاح کریں اور اسے شفاف بنائیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ قدم مریضوں اور طبی عملے کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ عدالتی حکم نامے میں اس بات پر بھی سخت زور دیا گیا ہے کہ انشورنس کمپنیاں ایسے مصنوعی یا فرضی ریٹس یعنی گھوسٹ ریٹس کو مکمل طور پر خارج کریں جو کہ نیٹ ورک کے اندر ادائیگیوں کے میڈین کو مصنوعی طور پر کم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس طرح کے طریقوں کی وجہ سے طبی ماہرین اور اسپتالوں کو معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور مریضوں کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں۔ فیڈرل کورٹ کے اس فیصلے کو ہیلتھ کیئر انڈسٹری میں شفافیت کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں انشورنس کے دعووں کی ادائیگی کے نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ ہیلتھ کیئر سے وابستہ مختلف تنظیموں اور اداروں نے اس عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے انشورنس سیکٹر میں منصفانہ مقابلے کی فضا قائم ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انشورنس کمپنیوں کو اب اپنے سسٹم کو فیڈرل قوانین کے مطابق ڈھالنا ہوگا بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پالیسیوں کے نفاذ میںے شفافیت کو یقینی بنانا ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام اور صحت کے شعبے سے جڑے افراد کو کسی بھی قسم کی ناانصافی کا سامنا نہ کرناپڑے۔