World
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول، تہران کا امریکہ کو سخت جواب
تہران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی کنٹرول میں ہے اور امریکی دعوے بے بنیاد ہیں۔ یہ بیان ڈونلڈ ٹنرمپ کی جانب سے آبنائے پر قبضے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
تہران کی جانب سے ایک بار پھر یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی طرف سے اس اہم گزرگاہ کے حوالے سے سخت بیانات اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ تہران نے امریکی حکام کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ بحری جہاز اس آبنائے سے بغیر کسی رکاوٹ کے گزر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس خطے میں تمام تر سیکیورٹی اور انتظامات ایران کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔ دوسری جانب، امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اس آبنائے کو اپنے کنٹرول میں رکھ سکتا ہے اور ایران کو اس حوالے سے وارننگ بھی جاری کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایران جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کی قیمت ادا کرے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات اور معاہدے کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس کشیدگی میں اضافے سے خطے میں ایک بار پھر جنگی بادل منڈلا سکتے ہیں۔ دریں اثنا، سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے مصالحتی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حالیہ دنوں میں تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایرانی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال اور ممکنہ ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔