LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی قتل کیس کی تفتیش اور ڈیجیٹل شواہد

News Image
میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں ڈی وی آر اور ڈیجیٹل ٹریل کا استعمال کرتے ہوئے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے مطابق کیمیکل اور ڈی این اے رپورٹس کے علاوہ مالیاتی اور قرض کے پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں روز بروز اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں اور تفتیشی اداروں نے کیس کی کڑیاں ملانے کے لیے ڈی وی آر اور ڈیجیٹل شواہد کا گہرائی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق ابتدائی طور پر حاصل ہونے والی کیمیکل اور ڈی این اے رپورٹس اتنی حتمی نہیں تھیں کہ جن کی بنیاد پر تفتیش کی سمت کا تعین کیا جا سکے، جس کے بعد ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور مواصلاتی رابطوں کی جانچ پڑتال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں جدید تکنیکی ذرائع کی مدد لی جا رہی ہے تاکہ مقتول کے آخری رابطوں اور نقل و حرکت کا احاطہ کیا جا سکے۔ کیس کی تفتیش کے دوران ایک نیا مالیاتی زاویہ بھی سامنے آیا ہے جس میں قرض کے لین دین کے شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا اس المناک واقعے کے پیچھے کوئی مالی تنازعہ یا قرض کا معاملہ تو کارفرما نہیں تھا۔ دوسری جانب، کیس کے ابتدائی مراحل میں پوسٹ مارٹم کے دوران مبینہ سنگین غفلت اور لاپرواہی برتنے پر متعلقہ میڈیکل لیگل آفیسر (ایم ایل او) کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، قانونی اور طبی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ڈی این اے کے نمونے طویل تاخیر کے بعد آخرکار کراچی یونیورسٹی کی لیبارٹری میں پہنچا دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبارٹری کی حتمی رپورٹس آنے کے بعد کیس کی تفتیش کو ایک نئی اور ٹھوس سمت ملنے کی توقع ہے۔ پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے تمام شواہد کو اکٹھا کر کے عدالت میں ایک مضبوط چالان پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس ہائی پروفائل کیس کے اصل محرکات کو بے نقاب کیا جا سکے۔