World
امریکہ کی ایران پر بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی دھمکی
امریکہ کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر جاری بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس کشیدگی کے دوران خلیج اومان اور آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پینٹاگون کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس اور اس سے ملحقہ سمندری حدود میں تناؤ کی لہر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس قسم کے اقدامات انتہائی ضروری ہیں اور یہ حکمت عملی طویل عرصے تک برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز پر فائرنگ بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ خلیج اومان میں پاکستان کے قریب ایک اور کنٹینر جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں جس سے میری ٹائم سکیورٹی کے امور پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے راستے پر ہونے والے حالیہ تنازعات اور کارروائیوں کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت اور جہاز رانی شدید متاثر ہو رہی ہے اور متعدد تجارتی بحری جہازوں کے روٹس بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ذرائع کے مطابق امریکی افواج نے اب تک ناکہ بندی کی کارروائیوں کے دوران دجنوں تجارتی بح VESSELS کو ان کے راستوں سے ہٹایا یا ان کا رخ موڑا ہے۔ اس تمام صورتحال نے خطے میں ایک نئے عسکری محاذ کو جنم دے دیا ہے جہاں عالمی طاقتیں اور ایران آمنے سامنے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور تجزیہ کار اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ خلیجی راستوں پر کسی بھی قسم کی طویل المدتی رکاوٹ سے دنیا بھر میں تیل اور اشیائے خوردونوش کی سپلائی چین شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔