World
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کی بربریت
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کے گھروں پر شدید محاصرے اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے الٹا فلسطینی خاندانوں کو ہی ان کے آبائی گھروں سے زبردستی بے دخل کر دیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور انتہا پسند صیہونی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور جبر کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مغربی کنارے کے ایک دیہی علاقے میں اسرائیلی آباد کاروں نے کئی فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ کر رکھا ہے، جس سے وہاں کے باسی شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کشیدہ صورتحال میں امن قائم کرنے یا مظلوموں کی مدد کرنے کے بجائے اسرائیلی فوج نے الٹا متاثرہ فلسطینی خاندانوں کو ہی زبردستی ان کے گھروں سے باہر نکالنا شروع کر دیا ہے۔
برطانوی اور امریکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینی خاندان اپنے ہی گھروں کے اندر پھنس کر رہ گئے ہیں جبکہ باہر انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ مچا رکھی ہے۔ مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کسی قسم کی تحفظ فراہم کرنے کے بجائے قابض فوج نے آباد کاروں کا ساتھ دیا ہے اور انہیں جبری طور پر بے گھر کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں جہاں عام شہری صیہونی ریاست اور مسلح آباد کاروں کی دوہری جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور جبری بے دخلی کے اس عمل پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آباد کاروں کی سرپرستی اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی دراصل اس طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی آبادی کو ان کی زمینوں سے محروم کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں اور خطے میں فلسطینی شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات کریں۔