World
یورپ میں گرمی کی لہر، برطانیہ کا درجہ حرارت بلند
برطانیہ میں رواں سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں مغربی لندن میں درجہ حرارت اڑتیس اعشاریہ ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ یورپ بھر میں شدید گرمی کی اس لہر نے نظامِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔
یورپ ایک بار پھر شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں آ گیا ہے جس کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ موسم گرما کی اس نئی لہر کے دوران برطانیہ میں رواں سال کا اب تک کا سب سے گرم دن ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مغربی لندن میں درجہ حرارت اڑتیس اعشاریہ ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ اتنی شدید گرمی کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بالخصوص بزرگوں اور بچوں کو دوپہر کے وقت گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے نظام پر بھی اس گرمی کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں اور ریل کی پٹریوں کے پھیلنے کے خدشات کے پیشِ نظر ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یورپ میں شدید گرمی کے دورانیے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ رواں سال کی یہ لہر نہ صرف برطانیہ بلکہ دیگر یورپی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جس سے توانائی کی طلب میں بھی یکدم اضافہ ہو گیا ہے۔ بجلی کے کارخانے اور ائیر کنڈیشنگ سسٹمز پر اضافی بوجھ پڑنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
حکومت اور صحت کے اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں اور بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔ ایمرجنسی خدمات کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ہیٹ اسٹروک یا دیگر طبی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے، کیونکہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔