World
ٹرمپ کا ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف مقدمہ عدالت نے مسترد کر دیا
امریکی عدالت نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف دائر وہ مقدمہ خارج کر دیا ہے جس میں یہودی طلباء کے تحفظ میں ناکامی کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہ فیصلہ غزہ جنگ کے دوران کیمپس کے مظاہروں سے نمٹنے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔
امریکی تاریخ میں ایک اہم عدلیہ کے فیصلے کے تحت، ایک جج نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف دائر مقدمے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ نامور تعلیمی ادارہ ہارورڈ یونیورسٹی کیمپس میں یہودی طلباء کے تحفظ اور ان کے حقوق کی فراہمی میں ناکام رہا ہے۔ یہ قانونی چارہ جوئی غزہ جنگ کے دوران امریکی جامعات میں پھوٹ پڑنے والے مظاہروں کے تناظر میں سامنے آئی تھی، جہاں طلباء کی بڑی تعداد نے فلسطینیوں کی حمایت میں اور جنگ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔
عدالت کا یہ تازہ ترین فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹیوں میں فلسطینی حامی احتجاجی مظاہروں اور کیمپس کی فضا سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں ایک اور بڑا دھکا قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو بڑی ریلیف ملی ہے جو طویل عرصے سے حکومتی دباؤ اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کر رہی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انہوں نے کیمپس میں تمام طلبا کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکہ بھر کی یونیورسٹیوں، جن میں آئیوی لیگ کے ادارے بھی شامل ہیں، میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ طلباء اور فیکلٹی ممبران نے جنگ بندی اور یونیورسٹی کے مالیاتی سرمائے کی عسکری اداروں سے واپسی کے لیے مظاہرے کیے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران یہ الزامات بھی سامنے آئے تھے کہ کچھ مقامات پر یہودی طلبا کو ہراساں کیا گیا، جس پر سیاسی اور حکومتی سطح پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔
فی الحال عدالت کی جانب سے مقدمہ خارج کیے جانے کے بعد اس قانونی جنگ کا ایک باب بند ہو گیا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملے پر تعلیمی آزادی اور کیمپس کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے بحث طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں اس موضوع پر سیاسی گرما گرمی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔