Pakistan
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ 14 اگست سے شروع ہو گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے جمعرات کے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 45 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 1.16 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، قیمتوں میں اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 325.43 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383.95 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی قیمتیں 14 اگست بروز جمعہ سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز بدستور عائد ہیں۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے پیش نظر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ تاہم، آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے قیمتوں کے روزانہ تعین کے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے تقسیم کاروں اور عوام کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی معیشت میں محصولات کے اہم ترین ذرائع ہیں، جن کی ماہانہ کھپت 7 سے 8 لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ پیٹرول کا زیادہ تر استعمال نجی سواریوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس سے اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست تعلق بین الاقوامی سیاسی صورتحال سے ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو مسلسل غیر مستحکم رکھا ہے۔ ماضی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپریل کے مہینے میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھیں، جس کے بعد حکومت نے عوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہدف شدہ ریلیف کے اقدامات بھی متعارف کروائے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ایندھن کی قیمتوں کو عالمی منڈی کے رجحانات سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے مزید کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔