LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کا بھارت کو انتباہ: پانی کا معاملہ پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے

News Image
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ لائی تو پاکستان براہ راست جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی پروقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی سلامتی اور ملکی مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے آبی تنازعات پر بھارت کے جارحانہ رویے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی ایک 'ریڈ لائن' کی حیثیت رکھتا ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع اور وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور بھارت کو خبردار کیا کہ اگر وہ اپنے غیر منصفانہ رویے سے باز نہیں آیا تو پاکستان اپنی بقا کی خاطر براہ راست اور سخت جوابی کارروائی کرے گا۔ تقریب کے دوران وزیراعظم نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری تمام فریقین کی ذمہ داری ہے، تاہم بھارت کی جانب سے بارہا آبی حقوق کی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے ملکی سول مسلح افواج اور صوبائی دستوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک بھارت آبی تنازعات میں مسلسل شدت دیکھی جا رہی ہے اور عالمی برادری پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لے۔ یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں قومی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے تحفظ اور ملکی خودمختاری کا دفاع ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت تمام تر چیلنجز کے باوجود ملکی وسائل کے تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معیشت اور زراعت کی لائف لائن ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ آخر میں وزیراعظم شہباز شریف نے مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کی حفاظت کے لیے ہر طرح کے آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس سخت پیغام کے بعد ملکی سیاسی و دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس میں وزیراعظم کے اس مؤقف کی حمایت کی جا رہی ہے کہ قومی مفادات کا تحفظ ہی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔