LIVE
Loading Breaking News...

ایف پی ایس سی کا سی ایس ایس امتحانات کے حوالے سے الزامات پر ردعمل

News Image
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سی ایس ایس 2026 کے امتحانی پرچوں کے گم ہونے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ امتحانی عمل مکمل طور پر شفاف ہے اور تمام امیدواروں کے ریکارڈ کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سی ایس ایس 2026 کے امتحانی پرچوں یا جوابی کاپیاں گم ہونے سے متعلق سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں گردش کرنے والی تمام خبروں اور الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سی ایس ایس جیسے اہم قومی امتحان کے حوالے سے ایسی من گھڑت اطلاعات کا مقصد امیدواروں میں بے چینی پھیلانا اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ امتحان کا پورا عمل سخت نگرانی اور جدید سیکیورٹی پروٹوکولز کے تحت انجام پاتا ہے جس میں کسی بھی قسم کی غفلت یا پرچوں کے ضائع ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف پی ایس سی اپنے امتحانی نظام کی شفافیت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ سی ایس ایس 2026 میں شامل ہونے والے امیدواروں کی جوابی کاپیوں کو انتہائی محفوظ طریقے سے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے اور ان کی کوریج، مارکنگ اور نتائج کی تیاری کا عمل مکمل طور پر شفاف طریقے سے جاری ہے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن کے پاس امیدواروں کا ڈیٹا اور ان کے امتحانی پرچے مکمل طور پر محفوظ ہیں، اور کسی بھی مرحلے پر کسی بھی پرچے کے گم ہونے کا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ ایسے الزامات جو بغیر کسی تحقیق کے پھیلائے جا رہے ہیں، حقائق کے منافی ہیں۔ ایف پی ایس سی نے طلباء اور امیدواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی مستند معلومات کے لیے صرف کمیشن کی باضابطہ ویب سائٹ یا سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔ کمیشن کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارے کے وقار کو داغدار کرنے والی غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھا گیا ہے۔ سی ایس ایس کا امتحان پاکستان میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایف پی ایس سی اس کی شفافیت پر سمجھوتہ کیے بغیر میرٹ کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ امیدواروں کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ امتحانی تیاری پر مرکوز رکھیں اور بیرونی پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔