World
کولمبیا زلزلہ: امدادی ٹیموں کا اہم اعلان اور تازہ ترین صورتحال
کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 224 تک پہنچ گئی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ حکام نے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے پرسکون ماحول یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
کولمبیا میں حال ہی میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 224 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، لیکن ملبے تلے دبے افراد کی زندگی بچانے کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں متاثرہ علاقوں میں مکمل خاموشی اپنانے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ ملبے تلے پھنسے افراد کی کسی بھی ہلکی سی آواز یا آہ و بکا کو سنا جا سکے اور انہیں بروقت نکال کر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
حکومتِ کولمبیا نے اس مشکل گھڑی میں بین الاقوامی امداد کے حوالے سے ایک سخت پالیسی اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صرف چار مخصوص ممالک کی امدادی ٹیموں کو ہی ملکی حدود میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد امدادی کارروائیوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اور افراتفری کو روکنا ہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق ایک خاتون کو زلزلے کے 36 گھنٹے بعد زندہ نکالنے کا واقعہ ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ملبے کے نیچے اب بھی کچھ زندگیاں باقی ہو سکتی ہیں۔
فیلڈ پر موجود ریسکیو ورکرز کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ شدید زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو بھاری مشینری کے استعمال میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم، مقامی رضاکاروں اور عالمی امدادی ٹیموں کا مشترکہ آپریشن جاری ہے تاکہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس میں حکومت کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی ٹیموں کے کام میں رکاوٹ نہ بنیں اور قریبی علاقوں سے پرہیز کریں تاکہ ریسکیو آپریشن کو مؤثر طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔ کولمبیا میں اس قدرتی آفت کے بعد دنیا بھر سے تعزیت اور یکجہتی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جبکہ مقامی سطح پر بحالی کے کاموں کے لیے بھی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔