World
رومانیہ میں پانی کی کمی کے باعث نیوکلیئر پاور پلانٹ کی بندش
رومانیہ نے شدید گرمی اور دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح انتہائی گر جانے کے باعث اپنے واحد نیوکلیئر پاور پلانٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پلانٹ کو اگلے دس دنوں تک دوبارہ بحال کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
رومانیہ کی جانب سے اپنے واحد نیوکلیئر پاور پلانٹ 'سیرناووڈا' (Cernavodă) کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شدید گرمی کی لہر کے باعث دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ نیوکلیئر پلانٹ رومانیہ کی کل بجلی کی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، اور اس کی بندش سے توانائی کے شعبے میں شدید دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ پانی کی سطح میں گراوٹ کے باعث کولنگ سسٹم کو درکار پانی کی فراہمی ممکن نہیں رہی، جس کی وجہ سے حفاظتی اقدامات کے تحت ری ایکٹر کو بند کرنا ناگزیر تھا۔
ماہرین کے مطابق، یورپی خطے میں جاری گرمی کی شدت نے نہ صرف انسانی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اہم بنیادی ڈھانچوں کو بھی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ دریائے ڈینیوب، جو کہ یورپ کا دوسرا سب سے بڑا دریا ہے، اپنی نچلی ترین سطح پر آ چکا ہے جس کے براہ راست اثرات آبی گزرگاہوں سے بجلی بنانے والے پلانٹس پر پڑ رہے ہیں۔ انتظامیہ نے بتایا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پلانٹ کو اگلے دس دنوں تک دوبارہ فعال کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے، کیونکہ پانی کی سطح میں بہتری کے لیے کسی بڑی بارش یا موسمیاتی تبدیلی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ رومانیہ کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ سردیوں کی آمد سے قبل بجلی کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔ اگرچہ حکومت نے متبادل ذرائع سے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے، لیکن نیوکلیئر پلانٹ کی بندش سے قومی گرڈ پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح قدرتی وسائل کی کمی سے قومی معیشت اور توانائی کا تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کو بجلی کی بچت اور متبادل انتظامات کے حوالے سے مزید سخت فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔