LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ملاحوں کے حالات تشویشناک

News Image
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ہزاروں ملاحوں کو خوراک کی قلت اور پلمبنگ کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ طویل عرصے تک سمندر میں قیام کے بعد عملے میں ذہنی تناؤ اور مایوسی بڑھ رہی ہے جس سے حکام کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی بحریہ کا مشہور طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln) اس وقت شدید بحران کی زد میں ہے، جہاں سمندر میں ڈھائی سو دن سے زائد کے طویل قیام کے بعد ہزاروں ملاحوں کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، جہاز پر موجود عملے کو خوراک کی شدید قلت اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار پلمبنگ کے نظام کی وجہ سے انتہائی تکلیف دہ حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ان حالات نے جہاز پر تعینات ہزاروں جوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، طویل عرصے تک سمندر میں محصور رہنے کے باعث عملے میں مایوسی اور ذہنی دباؤ کی کیفیت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ کچھ ملاحوں کی جانب سے مبینہ طور پر خود کو سمندر میں چھلانگ لگا کر ہلاک کرنے کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے، جس نے امریکی بحریہ کے حکام کو ہنگامی بنیادوں پر نوٹس لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاز پر موجود پینے کے پانی اور خوراک کی فراہمی میں درپیش مشکلات نے عملے کے حوصلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ رہائشی حصوں میں پلمبنگ کے نظام کی تباہ حالی نے صفائی ستھرائی کے مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بحری جہاز پر اس قدر طویل عرصے تک تعیناتی کا تجربہ نفسیاتی طور پر انتہائی تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کو درپیش یہ مشکلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکی بحریہ کو اپنے طویل المدتی مشنز کے دوران عملے کی فلاح و بہبود اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بحریہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے صورتحال کو بہتر بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق جہاز پر موجود جوانوں کی حالت پر شدید سوالات اٹھا رہے ہیں۔ یہ صورتحال اب ایک عالمی تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے کیونکہ ملاحوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات نے انسانی حقوق اور فوجی ضوابط پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی پینٹاگون اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے گا تاکہ عملے کو درپیش ان مشکلات کا فوری تدارک کیا جا سکے اور جہاز پر تعینات جوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔