World
بوئنگ طیارہ حادثہ: آئرش متاثرہ خاندان کو 29 ملین ڈالر ہرجانہ
امریکہ کے شہر شکاگو کی ایک جیوری نے بوئنگ کمپنی کے خلاف دائر مقدمے میں مائیکل رائن کے اہل خانہ کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔ مائیکل رائن کی بیوہ نائوش کونولی رائن نے دیوانہ وار قانونی جنگ لڑنے کے بعد یہ تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
امریکہ کے شہر شکاگو میں ایک عدالت نے آئرلینڈ کے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایک شخص کے اہل خانہ کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو 29 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ قانونی جنگ مائیکل رائن کی بیوہ نائوش کونولی رائن کی جانب سے دائر کردہ ایک سول مقدمے کے نتیجے میں لڑی گئی، جس میں کمپنی کی غفلت کو چیلنج کیا گیا تھا۔
مائیکل رائن اس المناک حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں میں شامل تھے، جس کے بعد ان کے خاندان نے انصاف کے حصول کے لیے طویل قانونی راستہ اختیار کیا۔ شکاگو کی جیوری نے تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران متاثرہ خاندان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ حادثے کی وجوہات میں تکنیکی نقصانات اور کمپنی کی جانب سے مناسب حفاظتی اقدامات کا فقدان شامل تھا۔
اس عدالتی فیصلے کو ہوا بازی کی صنعت اور بوئنگ کمپنی کے لیے ایک اہم قانونی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے فیصلوں سے بڑی فضائی کمپنیوں پر مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مزید دباؤ بڑھے گا۔ دوسری جانب، متاثرہ خاندان کے حامیوں اور قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو مظلوم خاندان کے لیے ایک بڑی انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔
عدالت کی جانب سے دی گئی اس خطیر رقم کا مقصد نہ صرف متاثرہ خاندان کے مالی نقصانات کا ازالہ کرنا ہے بلکہ بوئنگ جیسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ وہ اپنے مصنوعات کے معیار اور مسافروں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتیں۔ فیصلے کے بعد متاثرہ خاندان کے وکلاء نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔