World
سوڈان کی صورتحال: آر ایس ایف کی کورموک میں پیش قدمی
سوڈانی فوج اور سرکاری ذرائع کے مطابق پیراملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز نے بلیو نائل ریاست کے قصبے کورموک میں پیش قدمی کی ہے۔ یہ علاقہ ایتھوپیا کی سرحد کے ساتھ انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں نیم فوجی دستوں، ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) اور ان کے اتحادیوں نے ایتھوپیا کی سرحد کے قریب واقع ایک اہم شہر کورموک میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔ فوجی اور سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ پیش قدمی بلیو نائل ریاست میں ہوئی ہے، جو کہ تزویراتی طور پر انتہائی اہم خطہ تصور کیا جاتا ہے۔ آر ایس ایف کی جانب سے اس شہر کی طرف بڑھنا سوڈانی فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
کورموک کا قصبہ جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ایتھوپیا کی سرحد کے بالکل ساتھ واقع ہے، جس کے باعث یہاں کنٹرول حاصل کرنا عسکری اور سیاسی دونوں لحاظ سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آر ایس ایف اس علاقے پر مکمل قبضہ مستحکم کر لیتی ہے تو اس سے ان کی سپلائی لائنز اور نقل و حمل میں مزید آسانی پیدا ہو گی، جس سے سوڈانی فوج کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مقامی باشندوں نے اس پیش قدمی کے بعد خطے میں مزید کشیدگی اور نقل مکانی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب سوڈانی فوج نے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔ فوج کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی غیر قانونی پیش قدمی کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق اس وقت انتہائی پیچیدہ ہیں کیونکہ ملک کا ایک بڑا حصہ طویل عرصے سے جاری اس لڑائی کی وجہ سے انسانی بحران کا شکار ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ سرحد کے قریبی علاقوں میں لڑائی کا پھیلاؤ پڑوسی ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔
سوڈان میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ کورموک میں پیش قدمی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آر ایس ایف اپنی عسکری مہم کو ملک کے دور دراز اور حساس علاقوں تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس کا انحصار فریقین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں اور کسی ممکنہ جنگ بندی کے مذاکرات پر ہے۔ فی الحال مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کے عالم میں ہے اور انسانی امداد کی فراہمی میں بھی شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔