LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی فورسز کی جانب سے قصرا میں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا حکم

News Image
مقبوضہ ویسٹ بینک کے گاؤں قصرا میں اسرائیلی فورسز نے متعدد فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھر خالی کرنے کے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس اقدام سے مقامی آبادی میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مقبوضہ ویسٹ بینک کے علاقے قصرا میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب قابض اسرائیلی افواج نے مقامی فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھر خالی کرنے کے سخت احکامات جاری کر دیے۔ ذرائع کے مطابق یہ احکامات اچانک دیے گئے جس کے بعد ان خاندانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جو برسوں سے اپنے آبائی مکانات میں رہائش پذیر تھے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے انخلاء کی وجوہات کے بارے میں تاحال کوئی واضح قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا ہے، جس سے مقامی فلسطینیوں کے لیے ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ قصرا کے رہائشیوں نے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنے ہی گھروں سے بے دخل کرنے کی ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے انخلاء کا یہ حکم ان کی زمینوں اور املاک پر قبضے کے مذموم عزائم کا حصہ ہے جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ ماضی میں بھی اسرائیلی حکام کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کے ذریعے مقامی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا رہا ہے تاکہ یہودی بستیوں کی توسیع کے لیے زمین حاصل کی جا سکے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں رہائشی مکانات خالی کروانا جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق، قصرا کے رہائشی اب ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے تاکہ ان خاندانوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس صورتحال نے ویسٹ بینک میں ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے جہاں فلسطینی عوام اپنے گھروں کے تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہروں کی تیاری کر رہے ہیں۔ مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑنے کے احکامات کو مسترد کرتے ہیں اور اپنی زمین پر ڈٹے رہیں گے۔ اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ یہ حکم نامہ ایک بار پھر تنازعہ فلسطین کے حل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو نمایاں کرتا ہے، جس میں طاقت کے زور پر آبادی کی نقل مکانی کروائی جا رہی ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور مقامی لوگوں کو شدید بے چینی کا سامنا ہے۔