LIVE
Loading Breaking News...

میجر جنرل جواد احمد کی MINURSO کے فورس کمانڈر کے طور پر تقرری

News Image
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستانی میجر جنرل جواد احمد کو مغربی صحارا میں ریفرنڈم کے لیے اقوام متحدہ کے مشن (MINURSO) کا نیا فورس کمانڈر مقرر کیا ہے۔ وہ بنگلہ دیشی جنرل کی جگہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مغربی صحارا میں ریفرنڈم کے لیے اقوام متحدہ کے مشن، جسے MINURSO کے نام سے جانا جاتا ہے، کے لیے ایک اہم تقرری کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے میجر جنرل جواد احمد کو اس مشن کا نیا فورس کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی مسلسل شراکت اور عالمی سطح پر پاکستانی فوجی افسران کی پیشہ ورانہ مہارتوں پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میجر جنرل جواد احمد اس سے قبل بھی مختلف اہم فوجی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور ان کا تجربہ عالمی امن کے قیام میں ایک اثاثہ ثابت ہوگا۔ میجر جنرل جواد احمد اس عہدے پر بنگلہ دیش کے ریٹائر ہونے والے جنرل کی جگہ سنبھالیں گے، جنہوں نے اب تک اس مشن میں اپنی خدمات انجام دیں۔ مغربی صحارا میں MINURSO کا قیام 1991 میں عمل میں لایا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد علاقے میں ایک منصفانہ اور آزادانہ ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے حالات سازگار بنانا اور فریقین کے درمیان امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس مشن کو خطے کی پیچیدہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر کافی حساس سمجھا جاتا ہے، اور یہاں فورس کمانڈر کی ذمہ داریاں انتہائی اہم تصور کی جاتی ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ دستے بھیجنے والے ممالک کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ پاکستانی امن دستوں اور افسران نے دنیا بھر کے کئی شورش زدہ خطوں میں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر عالمی امن کے قیام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ میجر جنرل جواد احمد کی یہ تقرری نہ صرف ان کی ذاتی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اقوام متحدہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریوں کا چارج جلد سنبھالیں گے اور مشن کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے اپنی پریس بریفنگ میں اس تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ میجر جنرل جواد احمد کی شمولیت سے مشن کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مزید مدد ملے گی۔ عالمی برادری اس تقرری کو خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کے فوجی حلقوں میں بھی اس تقرری کو سراہا جا رہا ہے، اور اسے ملک کے لیے ایک اعزاز قرار دیا جا رہا ہے کہ ایک پاکستانی جنرل کو اتنی بڑی عالمی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔