World
ٹورنٹو میں لیتھیم آئن بیٹریاں خطرہ بن گئیں، آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ
ٹورنٹو کے فائر چیف نے لیتھیم آئن بیٹریوں سے متعلق حفاظتی قوانین میں فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران بیٹریوں میں آگ لگنے کے تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں لیتھیم آئن بیٹریوں سے جڑے آتشزدگی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد حکام نے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات اور قانون سازی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حالیہ واقعے میں ایک عمارت میں بیٹری پھٹنے کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس سلسلے کی تیسری کڑی ہے جو محض 24 گھنٹوں کے اندر پیش آئی، جس نے مقامی انتظامیہ اور فائر بریگیڈ کے حکام کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ٹورنٹو کے فائر چیف نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لیتھیم آئن بیٹریوں کے استعمال اور ان کے معیار کو ریگولیٹ کرنے والے قوانین اب پرانے ہو چکے ہیں اور انہیں فوری طور پر جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان بیٹریوں کی چارجنگ اور ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے سخت ضوابط نافذ نہ کیے گئے تو شہر میں آتشزدگی کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بہت سی بیٹریاں غیر معیاری ہیں جو استعمال کے دوران حد سے زیادہ گرم ہو جاتی ہیں اور کسی بھی وقت دھماکے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریاں جن کا استعمال برقی سائیکلوں، سکوٹرز اور گھروں میں استعمال ہونے والے برقی آلات میں عام ہے، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ٹورنٹو فائر سروس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مستند اور معیاری بیٹریوں کا ہی استعمال کریں اور چارجنگ کے دوران انہیں کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑیں۔ فائر چیف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو اس سلسلے میں مینوفیکچررز کے لیے سخت حفاظتی معیار طے کرنے چاہئیں تاکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں شہر کی سطح پر ان بیٹریوں کے استعمال سے متعلق آگاہی مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔