LIVE
Loading Breaking News...

جدید ٹیکنالوجی کا کرشمہ: جھوٹا آئینہ حقیقت کو مسخ کرنے لگا

News Image
محققین نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک انوکھا آئینہ تخلیق کیا ہے جو حقیقت کے برعکس غلط تصویر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایجاد بصری دھوکے اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کا ایک بہترین نمونہ سمجھی جا رہی ہے۔
آئینے کا بنیادی کام ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ اپنے سامنے موجود شے کا ہو بہو اور درست عکس پیش کرے۔ عام طور پر ہم تفریحی مقامات پر لگے ان آئینوں سے واقف ہیں جو قد و قامت کو لمبا یا چوڑا دکھا کر تماشا بناتے ہیں، لیکن حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسا 'جھوٹا آئینہ' تخلیق کیا ہے جو عام آئینوں کی طرح نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سائنسی طریقے سے حقیقت کو مسخ کر کے دکھاتا ہے۔ یہ ایجاد محض ایک کھلونا نہیں بلکہ بصریات (Optics) اور جدید کمپیوٹنگ کے امتزاج کا ایک حیران کن نمونہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے پیچھے کارفرما اصولوں کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے جدید ترین آپٹیکل سینسرز اور ریئل ٹائم امیج پروسیسنگ کا استعمال کیا ہے۔ یہ آئینہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ پہلے اپنے سامنے موجود شخص یا منظر کو اسکین کرتا ہے اور پھر سافٹ ویئر کی مدد سے اس میں تبدیلیاں لا کر ایک نئی تصویر تیار کرتا ہے۔ یہ عمل اتنی تیزی سے سرانجام پاتا ہے کہ دیکھنے والے کو فوری طور پر اپنی ایک ایسی شبہہ نظر آتی ہے جو حقیقت سے میل نہیں کھاتی۔ یہ ٹیکنالوجی بصری دھوکے کے فن کو ایک نئی جہت پر لے گئی ہے جہاں ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقت کو من مانے انداز میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد محض لوگوں کو دھوکہ دینا نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ ہمارا دماغ کس طرح بصری معلومات کو پروسیس کرتا ہے جب اسے متضاد ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی ایجادات مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور ہیومن کمپیوٹر انٹریکشن میں نئے دروازے کھول سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ 'جھوٹا آئینہ' ابھی تجرباتی مراحل میں ہے، لیکن اس کی کامیابی نے سائنسی دنیا میں ایک بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ہم اپنی آنکھوں پر ہمیشہ یقین کر سکتے ہیں یا جدید ٹیکنالوجی اس یقین کو متزلزل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے آلات کے طبی اور نفسیاتی شعبوں میں بھی مثبت استعمال ممکن ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ آئینہ لوگوں کے ذہنی تصورات کو سمجھنے یا کچھ خاص قسم کی بصری تھراپی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ نکسورا نیوز کی ٹیم اس پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کس طرح یہ ٹیکنالوجی آئندہ برسوں میں ہمارے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کا حصہ بن کر ہماری حقیقت دیکھنے کے انداز کو تبدیل کرتی ہے۔