Business
ٹرمپ میڈیا اور ٹروتھ سوشل کو 238 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا کمپنی ٹروتھ سوشل کو رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران 238 ملین ڈالر کا بڑا مالی خسارہ ہوا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق کاروبار کو وسعت دینے کی کوششوں کے دوران یہ نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر ملکیت میڈیا کمپنی 'ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ'، جو مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' کو چلاتی ہے، نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق جون تک کے تین مہینوں کے دوران کمپنی کو 238 ملین ڈالر کا بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار کمپنی کے لیے ایک بڑا جھٹکا سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ پلیٹ فارم کو وسعت دینے کی کوششیں تاحال خاطر خواہ منافع بخش ثابت نہیں ہو سکیں۔
اس مالی نقصان کی بنیادی وجوہات میں کمپنی کی جانب سے کیے جانے والے نئے اخراجات اور کاروبار کو مختلف شعبوں میں پھیلانے کی حکمت عملی بتائی جا رہی ہے۔ ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں پلیٹ فارم کو مزید مستحکم کرنے اور صارفین کی تعداد میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کے اثرات وقتی طور پر مالی گوشواروں میں نقصان کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ تاہم، مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹروتھ سوشل کو اشتہارات اور دیگر آمدنی کے ذرائع حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹوئٹر (موجودہ ایکس) کے متبادل کے طور پر لانچ کیا گیا تھا، جہاں وہ اپنے حامیوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے شیئر کیے گئے مالیاتی اعداد و شمار کے بعد حصص کی مارکیٹ میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کار اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا کمپنی اپنی موجودہ مالی حالت سے باہر نکلنے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات اٹھاتی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹرمپ کی میڈیا کمپنی اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور منافع کمانے کے لیے کیا نئی حکمت عملی اپناتی ہے۔