LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں ہیٹ ویو: بگ ایشو میگزین کی فروخت میں نمایاں کمی

News Image
برطانیہ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث گلیوں میں میگزین فروخت کرنے والے افراد کے کاروبار پر گہرا اثر پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں سیلز میں 30 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ شہری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔
برطانیہ بھر میں جاری شدید گرمی کی غیر معمولی لہر نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے جس کے اثرات اب معاشی سطح پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ 'بگ ایشو' (Big Issue) کے فروخت کنندگان، جو عام طور پر مصروف شاہراہوں اور عوامی مقامات پر اپنے میگزین فروخت کرتے ہیں، اب شدید مندی کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید گرمی کے پیش نظر عوام کی بڑی تعداد نے گھروں تک محدود رہنے کو ترجیح دی ہے، جس کی وجہ سے فٹ پاتھوں اور مارکیٹوں میں خریداروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ کے مختلف علاقوں میں فروخت میں 30 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال ان افراد کے لیے کسی بڑے بحران سے کم نہیں جن کا روزگار مکمل طور پر میگزین کی روزانہ کی فروخت پر منحصر ہوتا ہے۔ گرمی کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ دوپہر کے اوقات میں اکثر مقامات ویران دکھائی دیتے ہیں، جس سے فروخت کنندگان کے لیے اپنے ہدف کو پورا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ بگ ایشو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فروخت کنندگان پہلے ہی مہنگائی اور معاشی چیلنجوں کا سامنا کر رہے تھے، تاہم موجودہ موسمی حالات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے شہریوں کا گھروں میں رہنا جہاں صحت کے لیے ضروری ہے، وہیں یہ ان دیہاڑی دار طبقے کے لیے مالی مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ تنظیم اب اپنے ممبران کی مدد کے لیے مختلف متبادل راستوں پر غور کر رہی ہے تاکہ انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اس طرح کی شدید گرمی کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی نسبت بڑھ رہا ہے، جس سے نہ صرف صحت بلکہ مقامی معیشت کے چھوٹے شعبوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال یہ باور کراتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے کوئی بھی شعبہ محفوظ نہیں ہے، اور اس طرح کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔