World
فیڈل کاسترو کی 100 ویں سالگرہ: کیوبا میں یادگاری تقریبات
کیوبا کے انقلابی رہنما فیڈل کاسترو کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ان کی یادگار اور میراث کو آج بھی کیوبا کی سیاست اور سماجی زندگی میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
کیوبا کے عظیم انقلابی رہنما اور طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے فیڈل کاسترو کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر کیوبا سمیت دنیا بھر میں ان کی خدمات کو یاد کیا گیا۔ جمعرات کے روز اگر فیڈل کاسترو حیات ہوتے تو وہ اپنی زندگی کی ایک صدی مکمل کر چکے ہوتے۔ اس خاص دن کی مناسبت سے کیوبا میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں سرکاری حکام، کمیونسٹ پارٹی کے اراکین اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ کیوبا کے دارالحکومت ہوانا اور دیگر شہروں میں فیڈل کاسترو کے پوسٹرز اور بینرز آویزاں کیے گئے جس میں ان کی جدوجہد اور ملک کے لیے دی گئی قربانیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
فیڈل کاسترو کی میراث کیوبا کی سرزمین پر گہرے اثرات چھوڑ چکی ہے۔ ان کے پیروکار انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جنہوں نے کیوبا کو امریکی اثر و رسوخ سے نکال کر خود مختار بنایا اور ملک میں صحت و تعلیم کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات متعارف کروائیں۔ اگرچہ ان کے ناقدین ان کے دورِ حکومت میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں، تاہم کیوبا کی موجودہ حکومت کے لیے وہ ایک ایسی علامت ہیں جو قومی وقار اور مزاحمت کی عکاسی کرتی ہے۔ آج بھی کیوبا کی سیاست کا محور کاسترو کے دیے گئے نظریات اور ان کی سوچ کے گرد گھومتا ہے۔
اس سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات کا مقصد نئی نسل کو کاسترو کے دور اور ان کے نظریات سے آگاہ کرنا ہے۔ مختلف میوزیمز اور ثقافتی مراکز میں ان کی زندگی پر مبنی تصاویر کی نمائش کی گئی ہے جس میں انقلابِ کیوبا کے دوران ان کے مختلف ادوار کو دکھایا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ فیڈل کاسترو کا نام لاطینی امریکہ کی تاریخ سے کبھی نہیں مٹ سکتا، کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے ملک کی سمت بدلی بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک الگ مقام پیدا کیا۔
آج کیوبا ایک مشکل معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے، ایسے میں حکومتی سطح پر فیڈل کاسترو کی 100 ویں سالگرہ منانے کا مقصد عوام کے اندر اتحاد اور حوصلہ پیدا کرنا بھی ہے۔ تقاریب کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کاسترو کے اصولوں پر عمل پیرا رہ کر ہی ملک موجودہ چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے۔ یوں فیڈل کاسترو کی 100 ویں سالگرہ نہ صرف ان کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے بھی ایک عزم کا اظہار ثابت ہوئی۔