Business
اسٹیبل کوائن ریگولیشن: امریکی بینکوں کا OCC کی رپورٹنگ پالیسی پر اعتراض
امریکی بینکوں نے آفس آف دی کامپٹرولر آف دی کرنسی (OCC) کی جانب سے اسٹیبل کوائنز کے لیے ہفتہ وار رپورٹنگ کی سخت شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بینکنگ سیکٹر کا ماننا ہے کہ ریگولیٹری تقاضوں میں مزید بہتری اور وضاحت کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز اور بینکوں کے درمیان اسٹیبل کوائنز کے ضوابط پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ آفس آف دی کامپٹرولر آف دی کرنسی (OCC) کی جانب سے جاری کردہ تجاویز کے بعد مختلف بڑے بینکوں نے باضابطہ طور پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمنٹ لیٹرز جمع کرائے ہیں۔ ان خطوط میں بینکوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے اداروں کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر تفصیلی رپورٹنگ کی شرط بہت سخت ہے، جس پر عمل درآمد کے لیے ایک واضح فریم ورک کی ضرورت ہے۔ بینکوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ریگولیٹری مسودے میں ان معلومات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے جو ریگولیٹرز مسلسل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
بینکنگ سیکٹر کے ماہرین کا استدلال ہے کہ ہفتہ وار رپورٹنگ کی سخت پابندیاں نہ صرف انتظامی بوجھ میں اضافے کا باعث بنیں گی بلکہ اس سے مارکیٹ میں جدت اور مسابقت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بینکوں کے مطابق، اسٹیبل کوائنز کے لیے ریگولیٹری تقاضوں کا تعین کرتے وقت مارکیٹ کے زمینی حقائق اور ٹیکنالوجی کی نوعیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ ریگولیٹرز کا مقصد مالیاتی نظام کی شفافیت اور صارفین کا تحفظ یقینی بنانا ہے، تاہم بینکوں کا ماننا ہے کہ رپورٹنگ کا یہ طریقہ کار اتنا پیچیدہ ہے کہ اس سے بینکوں کے آپریشنز پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، OCC اپنے موقف پر قائم ہے اور کرپٹو اثاثوں کے شعبے میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اسٹیبل کوائنز کے مالیاتی استحکام کے لیے مسلسل نگرانی ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت بچا جا سکے۔ تاہم، بینکوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فیڈرل اسٹیبل کوائن ریگولیشن کے نفاذ کے لیے ریگولیٹرز اور نجی شعبے کے درمیان مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو ریگولیشن کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پالیسی سازی کی توقع کی جا رہی ہے۔