Technology
خلا میں روبوٹک مکینک: سیٹلائٹس کو طویل مدت تک فعال رکھنے کا طریقہ
نارتھروپ گرمن کی جانب سے تیار کردہ ایک جدید روبوٹک خلائی جہاز زمین کے مدار میں موجود سیٹلائٹس کی مرمت اور عمر بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خلا میں موجود پرانے سیٹلائٹس کو فعال رکھنے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو رہی ہے۔
زمین کے مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس انسانی زندگی اور مواصلاتی رابطوں میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹری اور ایندھن ختم ہونے سے یہ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے نارتھروپ گرمن نے ایک جدید اور انقلابی طریقہ متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ایک روبوٹک خلائی مکینک کو مدار میں بھیجا گیا ہے۔ یہ روبوٹک خلائی جہاز ان سیٹلائٹس کے ساتھ منسلک ہو کر انہیں نہ صرف ایندھن فراہم کر سکتا ہے بلکہ ان کے دیگر تکنیکی مسائل کو بھی دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیشرفت سے سیٹلائٹس کی کارکردگی کو کئی سالوں تک بڑھایا جا سکتا ہے جو ماضی میں ممکن نہیں تھا۔
اس منصوبے کے تحت بھیجے گئے روبوٹک خلائی جہاز کا بنیادی کام پرانے اور ناکارہ ہونے والے سیٹلائٹس کو دوبارہ نئی زندگی دینا ہے۔ ماضی میں جب کسی سیٹلائٹ کا ایندھن ختم ہو جاتا تھا تو اسے خلا میں ہی چھوڑ دیا جاتا تھا جس سے خلائی کچرے میں اضافہ ہوتا تھا۔ نارتھروپ گرمن کی یہ نئی ٹیکنالوجی اس کچرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ یہ روبوٹک مکینک نہایت احتیاط کے ساتھ سیٹلائٹ سے جڑتا ہے اور پھر اسے اپنے کنٹرول میں لے کر مدار میں درست سمت میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تکنیکی مہارت خلا میں روبوٹکس کے استعمال کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم خلائی صنعت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ سیٹلائٹس کی تیاری اور انہیں مدار میں بھیجنے پر اربوں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں، لہذا انہیں فعال رکھنا کمپنیوں اور خلائی ایجنسیوں کے لیے مالی لحاظ سے بھی انتہائی فائدہ مند ہے۔ نارتھروپ گرمن کی یہ کوشش ثابت کرتی ہے کہ اب ہم خلا میں صرف نئے سیٹلائٹس بھیجنے پر ہی انحصار نہیں کریں گے، بلکہ موجودہ اثاثوں کی دیکھ بھال کر کے ان سے طویل مدت تک استفادہ بھی حاصل کر سکیں گے۔ آنے والے وقتوں میں اس طرح کے روبوٹک مشنز خلائی تحقیق میں مزید تیزی لائیں گے اور مدار میں موجود انسانی انفراسٹرکچر کو محفوظ بنائیں گے۔