LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی برآمدات کے لیے نیا منصوبہ

News Image
امریکی محکمہ خارجہ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اتحادی ممالک کے ساتھ تجارت کو تیز کرنے کے لیے پیکسی سلیکا اے آئی اسسٹنس پروجیکٹ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مواد کی فراہمی کو ہموار بنانا اور شراکت داروں کے ساتھ تکنیکی تعاون کو بڑھانا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک نئے اہم اقدام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی تجارت کو تیز اور آسان بنانا ہے۔ 'پیکسی سلیکا اے آئی اسسٹنس پروجیکٹ' نامی اس پروگرام کا باضابطہ اعلان بدھ 12 اگست کو کیا گیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی عالمی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ایسی رکاوٹوں کو ختم کرنے پر توجہ دی جائے گی جو اے آئی ٹیکنالوجی کی نقل و حمل اور برآمدات میں تاخیر کا باعث بنتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی سطح پر جاری تکنیکی مسابقت کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے صرف مقامی وسائل کافی نہیں ہیں، بلکہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ ایکو سسٹم تشکیل دینا ناگزیر ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف ٹیکنالوجی کے بہاؤ کو بہتر بنایا جائے گا بلکہ مشترکہ معیارات طے کرنے میں بھی مدد ملے گی، تاکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال محفوظ اور ذمہ دارانہ خطوط پر استوار رہے۔ پروجیکٹ کے ابتدائی مراحل میں ترجیحی بنیادوں پر ان ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے گا جو امریکہ کے دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے ان ممالک کو اے آئی سے متعلقہ جدید ترین آلات اور سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی، جس سے ان کی مقامی صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم چین کے ساتھ جاری ٹیکنالوجی کی جنگ میں امریکہ کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ واشنگٹن اپنی 'اے آئی سپلائی چین' کو زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنانا چاہتا ہے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ پیکسی سلیکا اے آئی اسسٹنس پروجیکٹ محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی سٹریٹجک وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد اے آئی ٹیکنالوجی کے میدان میں جدت طرازی کی رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پروگرام کے تحت مزید تفصیلات اور شرائط کا اعلان متوقع ہے، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ کس طرح نجی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے اس تعاون سے براہ راست مستفید ہو سکتے ہیں۔