Technology
ٹک ٹاک ملازمین کے لیے نئی دفتری پالیسی کا اعلان
مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے امریکہ میں مقیم اپنے تمام ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم پالیسی ختم کرتے ہوئے انہیں ہفتے میں پانچ دن دفتر آنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے ہائبرڈ ورک ماڈل کو ترک کر کے دفتری حاضری کو یقینی بنانے کی ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کی دنیا میں بے پناہ مقبول ایپ ٹک ٹاک نے ورک فرام ہوم کے دور کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنے امریکی ملازمین کے لیے نئی سخت پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ بائٹ ڈانس کی زیر ملکیت اس پلیٹ فارم نے اپنے عملے کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ اب انہیں ہفتے میں پانچ دن لازمی طور پر دفتر آ کر کام کرنا ہوگا۔ اس فیصلے سے وہ تمام ملازمین متاثر ہوں گے جو اب تک ہائبرڈ ماڈل کے تحت گھر سے کام کرنے کی سہولت حاصل کر رہے تھے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی ہدایات ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے رجحانات میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاس ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اپنی ملازمین کو واپس دفاتر بلانے پر زور دے رہی ہیں تاکہ ٹیم ورک اور دفتری کلچر کو بحال کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ٹک ٹاک کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ دفتری ماحول میں کام کرنے سے ملازمین کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔ تاہم اس اچانک تبدیلی کے بعد ملازمین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، کیونکہ طویل عرصے تک ورک فرام ہوم کی سہولت کے بعد اب روایتی دفتری نظام میں واپسی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس فیصلے کی تفصیلات اور اس کے نفاذ کی حتمی تاریخ کے بارے میں مزید معلومات بھی جلد متوقع ہیں۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر اب مکمل طور پر کووڈ کے دور کے اثرات سے نکل کر پرانے دفتری نظام کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ ٹک ٹاک کے اس فیصلے کے بعد دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں میں بھی اسی طرح کی پالیسیوں کے نفاذ کی توقع کی جا رہی ہے۔