World
امریکہ میں امیگریشن حکام کے الیکٹرو شاک دستانے استعمال کرنے کے فیصلے پر ہنگامہ
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے مشتبہ افراد کو قابو کرنے کے لیے الیکٹرو شاک دستانوں کے استعمال کے منصوبے پر انسانی حقوق کے حلقوں اور تجزیہ کاروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس اقدام کو ماہرین نے غیر انسانی اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے تارکینِ وطن اور مشتبہ افراد کو قابو کرنے کے لیے الیکٹرو شاک دستانوں کے استعمال کا منصوبہ سامنے آتے ہی ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس اقدام کو انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن کا ماننا ہے کہ اس قسم کے پرتشدد آلات کا استعمال کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ سی این این کے ایک حالیہ پینل پروگرام کے دوران ماہرین نے اس فیصلے پر حیرت اور صدمے کا اظہار کیا اور اسے انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے منافی قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکٹرو شاک دستانے، جنہیں برقی کرنٹ کے ذریعے کسی شخص کو بے بس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پروگرام کی اینکر برینا کیلر نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا حکام واقعی اس طرح کے پرتشدد اقدامات کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں؟ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف زیر حراست افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے آلات کے استعمال سے اموات یا مستقل جسمانی معذوری کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب، محکمہ امیگریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ دستانے سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ ہو سکتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے ظلم و ستم کا ایک نیا روپ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امیگریشن پالیسیوں میں سختی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور یہ منصوبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس منصوبے پر نظرثانی کرے اور تشدد کے بجائے انسانی طریقے اختیار کرے۔
یہ معاملہ اب سیاسی حلقوں میں بھی گونج رہا ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں اور شہری آزادیوں کے کارکن مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس منصوبے کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی امریکی حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ہے کہ عدالتوں میں بھی اس متنازع فیصلے کے خلاف چیلنجز داخل کیے جائیں گے، کیونکہ ماہرین قانون کے مطابق الیکٹرو شاک جیسے آلات کا اندھا دھند استعمال آئینی اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔