LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا اور وینزویلا زلزلہ: حکومتی ردعمل میں نمایاں فرق

News Image
کولمبیا اور وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد دونوںممالک کے امدادی اور حفاظتی اقدامات میں واضح فرق دیکھا گیا ہے۔ کولمبیا نے صرف چار مخصوص ممالک سے امدادی ٹیمیں قبول کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
کولمبیا اور وینزویلا میں حالیہ ہلاکت خیز زلزلوں نے دونوں پڑوسی ممالک کے حکومتی ردعمل اور امدادی صلاحیتوں میں موجودہ گہری خلیج کو کھل کر سامنے لے آيا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبیا کی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ صرف چار مخصوص ممالک سے آنے والی ریسکیو ٹیموں کو ہی اپنے ہاں کام کرنے کی اجازت دے گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زلزلے کے بعد ملبے میں دبے افراد کو زندہ نکالنے کی سنہری کھڑکی تیزی سے بند ہو رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کولمبیا میں زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل خوفناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 224 تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود امدادی ٹیمیں دن رات ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں۔ ایک دل کو چھو لینے والے واقعے میں ایک خاتون کو زلزلے کے تقریباََ چھتیس گھنٹے بعد تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے معجزاتی طور پر زندہ نکال لیا گیا جس سے امدادی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے اور عوام میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے نمائندوں نے بھی اس ہلاکت خیز زلزلے کے بعد صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں فوری بین الاقوامی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ ایس آر ایس جی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کو اس وقت طبی امداد، خوراک اور سرپناہ کی اشد ضرورت ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ حکومتی سطح پر ردعمل میں یہ فرق ماہرین کے لیے بحث کا موضوع بن چکا ہے کہ کس طرح مختلف ممالک ہنگامی اور تباہ کن حالات سے نمٹنے کے لیے الگ الگ پالیسیاں اپناتے ہیں۔