Technology
اسپتالوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور نرسوں کے تحفظات
اسپتالوں میں استعمال ہونے والے جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے بارے میں نرسوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ سافٹ ویئر اکثر مریضوں کی عملی طبی تشخیص سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ bedside پر نرسوں کی نگرانی اور جائزہ کے بغیر ان ٹولز کا استعمال طبی غلطیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
جدید طبی سہولیات اور اسپتالوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں تشخیص اور علاج کے عمل کو تیز کیا ہے، وہیں طبی عملے خاص طور پر نرسوں کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں۔ نرسوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں متعارف کروائے جانے والے جدید AI سافٹ ویئر اکثر مریض کی عملی حالت کے برعکس نتائج دیتے ہیں۔ نرسوں کے مطابق، جب سافٹ ویئر کوئی ایسا مشورہ دیتا ہے جو مریض کی ظاہری حالت یا ان کی اپنی طبی تشخیص سے میل نہیں کھاتا، تو ایسی صورتحال میں سنگین طبی غلطیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس مسئلے کی بنیادی وجہ طبی ٹولز میں 'بیڈ سائیڈ ریویو' یا مریض کے قریب موجود نرس کے حتمی جائزے کی کمی ہے۔ نرسوں کا موقف ہے کہ مشین کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، مریض کے جسمانی ردعمل، چہرے کے تاثرات اور دیگر باریک علامات کو سمجھنے میں انسانی تجربہ اب بھی ناگزیر ہے۔ بہت سے معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ AI ٹولز مریض کے وائٹل سائنز کی بنیاد پر خودکار فیصلے دیتے ہیں، جبکہ نرس کی اپنی طبی مہارت یہ بتاتی ہے کہ مریض کو فوری طور پر کچھ اور توجہ درکار ہے۔ اس عدم مطابقت کی وجہ سے نرسوں کو اپنے کام کے دوران شش و پنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ AI کو صرف ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ ایک خودکار فیصلہ ساز کے طور پر۔ اگر اسپتال انتظامیہ ان ٹولز کو نرسوں کے حقیقی تجربات اور رائے کے بغیر نافذ کرتی ہے، تو اس سے مریضوں کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ نرسوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی لانے سے قبل زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے اور سافٹ ویئر ڈیزائننگ میں نرسنگ اسٹاف کی رائے کو شامل کیا جائے تاکہ طبی غلطیوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، بہت سے اسپتالوں میں یہ ٹیکنالوجی بغیر کسی جامع ٹیسٹنگ اور نرسوں کی باقاعدہ تربیت کے استعمال کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں کام کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ نرسوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مشین کا فیصلہ غلط ہو تو ذمہ داری کا تعین کرنا بھی ایک پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔ لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیاں اور ہسپتال انتظامیہ ایسی حکمت عملی اپنائیں جس میں مصنوعی ذہانت اور انسانی تجربہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کر سکیں۔