AI
اے آئی کے نئے نمونے سیکیورٹی کیمروں کو دھوکہ دینے میں کامیاب
مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹ نو ریکگنیشن نے ایسے خاص بصری نمونے تیار کیے ہیں جو سیکیورٹی اور نگرانی کے جدید کیمروں کو شے یا انسان کی شناخت سے روکتے ہیں۔ ٹیسٹنگ کے دوران ان پیٹرنز نے انسانوں، چہروں اور گاڑیوں کو پہچاننے والے تمام 11 اوپن سورس اے آئی ماڈلز کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ترین کیمروں کے ذریعے عوامی مقامات پر مسلسل نگرانی کا نظام پھیل رہا ہے، وہیں شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ معروف محقق بل سویرنگن کے ایک نئے پروجیکٹ نو ریکگنیشن (noRecognition) نے ایسے مخصوص بصری نمونے (Patterns) تیار کیے ہیں جو جدید ترین سی سی ٹی وی اور پرائیویٹ نگرانی کی سروسز جیسے فلاک (Flock) سسٹم کے کیمروں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ یہ نمونے مصنوعی ذہانت پر مبنی شے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کو الجھن کا شکار کر دیتے ہیں جس سے کیمرے شے کا تعین نہیں کر پاتے۔ رپورٹ کے مطابق بل سویرنگن کے تیار کردہ ان اے آئی پیٹرنز کو جب آزمایا گیا تو انہوں نے اوپن سورس شے کی شناخت (Object Recognition) کے تمام 11 معروف ماڈلز کو مکمل طور پر دھوکہ دیا۔ یہ تکنیک انسانوں، چہروں، اور گاڑیوں کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والے الگورتھم کو بائی پاس کر دیتی ہے۔ جب یہ نمونے کسی گاڑی، کپڑے یا کسی چیز کی سطح پر لگائے جاتے ہیں تو کیمرے کا بنیادی سافٹ ویئر اس کی اصل شناخت کرنے اور اس کی درجہ بندی (Classification) کرنے سے قاصر رہتا ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی محفوظ رہتی ہے۔ جدید دور میں جہاں جگہ جگہ نگرانی کے کیمرے قائم ہیں اور خودکار لائسنس پلیٹ ریڈرز جیسے نظام شہریوں کی نقل و حرکت کا مسلسل ریکارڈ رکھ رہے ہیں، وہاں پرائیویسی کے حامی اس پیش رفت کو ایک بڑا اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس منصوبے نے ثابت کیا ہے کہ جہاں اے آئی کا استعمال سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے ہو رہا ہے، وہیں اسی اے آئی کو پرائیویسی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے بھی ڈھال بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے میدان میں نمایاں تبدیلیاں لائے گی۔ نو ریکگنیشن پروجیکٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد اب سیکیورٹی کیمرے بنانے والی کمپنیوں اور سیکیورٹی ڈیوائسز کے ماہرین پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے الگورتھم کو مزید بہتر کریں۔ تاہم، اس سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں اب سیکیورٹی اور پرائیویسی کے درمیان ایک نئی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جہاں ایک طرف جدید ترین کیمرے ہیں تو دوسری طرف ان سے بچنے والی جدید ترین الگورتھم ٹیکنالوجی موجود ہے۔