World
آئی سی ای کے الیکٹرک شاک دستانے: انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید ردعمل
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے افسران کو الیکٹرک شاک دینے والے دستانے فراہم کرنے کے منصوبے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اسے غیر ضروری اور ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے اپنے فیلڈ افسران کو ایسے دستانے فراہم کرنے کے منصوبے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جو ضرورت پڑنے پر افراد کو تکلیف دہ برقی جھٹکے پہنچا سکتے ہیں۔ اس متنازع فیصلے کے سامنے آتے ہی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اس کے غلط استعمال کے سنگین خطرات بھی موجود ہیں۔
اس منصوبے کے تحت افسران کو ایسے دستانے دیے جانے کا تصور پیش کیا گیا ہے جو مشتبہ افراد یا حراست میں لیے گئے افراد کو قابو کرنے کے لیے بجلی کے جھٹکے استعمال کر سکیں۔ ناقدین کے مطابق، امیگریشن کے معاملات میں اس طرح کے مہلک اور طاقتور ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی طرح سے اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے تشدد میں اضافہ ہوگا۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے آلات کا استعمال طاقت کے ناجائز استعمال کی راہ ہموار کرے گا، جس کے دور رس منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔
دوسری جانب، سیاسی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ متعدد ڈیموکریٹک نمائندوں نے اس منصوبے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اداروں کو ایسے آلات کی فراہمی سے گریز کرنا چاہیے جو شہریوں کی زندگی اور صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ آئی سی ای کو بہتر اور محفوظ طریقہ کار اپنانے چاہییں بجائے اس کے کہ وہ طاقت کے استعمال پر مبنی ٹیکنالوجی پر انحصار کرے۔ اب تک آئی سی ای کی انتظامیہ نے اس پر کوئی واضح موقف جاری نہیں کیا، لیکن عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اس منصوبے پر نظر ثانی کیے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ امریکہ میں پولیسنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اصلاحات کے حوالے سے جاری بحث کا حصہ ہے۔ شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ امیگریشن کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ایسے آلے کے استعمال سے پرہیز کیا جائے جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی وقار کے منافی ہو۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر امریکی کانگریس میں مزید بحث کی توقع ہے کیونکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس حوالے سے باقاعدہ احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا ہے۔