World
ٹرمپ انتظامیہ کا آئی سی ای افسران کے لیے برقی دستانوں کا متنازعہ فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے افسران کو برقی جھٹکے دینے والے جدید دستانے فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس منصوبے پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے جائیں گے تاکہ امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید سخت بنایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک انتہائی متنازعہ فیصلے کے تحت امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے افسران کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وفاقی ایجنٹس کو ایسے خصوصی دستانے فراہم کیے جائیں گے جن کے ذریعے مشتبہ افراد کو برقی جھٹکے (الیکٹرک شاک) دیے جا سکیں گے۔ رپورٹس کے مطابق اس مقصد کے لیے کروڑوں ڈالر کے فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد سرحدوں پر کنٹرول کو سخت کرنا اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنانا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دستانے افسران کی حفاظت اور فرائض کی انجام دہی کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک اہم آلہ ثابت ہوں گے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر شدید تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے آلات کا استعمال طاقت کا بے جا استعمال ہے اور یہ غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔ ان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی سے گرفتاری کے دوران زخمی ہونے یا ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے خلاف جو پہلے ہی کمزور پوزیشن میں ہوتے ہیں۔
اس منصوبے کے مالی پہلوؤں پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔ دسیوں ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے ان دستانوں کی خریداری کے معاہدے پر اپوزیشن کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ امیگریشن کے معاملات میں تشدد کے بجائے سفارتی اور قانونی طریقوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ وہ کسی بھی ناگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار رہ سکیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا کانگریس اس بھاری اخراجات والے منصوبے کی منظوری دیتی ہے یا نہیں، کیونکہ ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے اس پر پہلے ہی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ امیگریشن پالیسی پہلے ہی امریکہ میں تقسیم کا باعث بنی ہوئی ہے، اور اس نئے اعلان نے بحث کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی جامہ پہنتا ہے تو یہ امریکی امیگریشن کی تاریخ میں طاقت کے استعمال کا ایک انتہائی متنازعہ باب سمجھا جائے گا۔