LIVE
Loading Breaking News...

ICE کا الیکٹرک شاک گلوز خریدنے کا منصوبہ اور امریکی سیاست میں ہلچل

News Image
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے الیکٹرک شاک گلوز کی بھاری مقدار میں خریداری کا منصوبہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان آلات کا استعمال غیر قانونی ہوا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے تارکین وطن کی حراستی مراکز میں استعمال کے لیے الیکٹرک شاک گلوز کی 20 ملین ڈالر کی ممکنہ خریداری کا منصوبہ ایک بڑے تنازعہ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس پیش رفت پر نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل سمیت کئی ڈیموکریٹک رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے طاقتور اور غیر انسانی آلات کا استعمال حراست میں لیے گئے افراد کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ گورنر کیتھی ہوچل نے وفاقی امیگریشن حکام کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ آلات غیر قانونی طور پر استعمال کیے گئے تو ریاستی انتظامیہ قانونی چارہ جوئی کے تمام راستے اختیار کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک ریاست میں انسانی وقار اور قانون کی پاسداری سب سے اہم ہے اور کسی بھی ایسی ٹیکنالوجی کو قبول نہیں کیا جائے گا جو حراست میں موجود افراد کو غیر ضروری جسمانی تکلیف پہنچانے کا باعث بنے۔ ریاستی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ خریداری وفاقی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے مطابق ہے یا نہیں۔ دوسری جانب، ICE کے ترجمانوں کا موقف ہے کہ یہ آلات عملے کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے خریدے جا رہے ہیں تاکہ پرتشدد کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ تاہم، شہری حقوق کی تنظیموں نے اس وضاحت کو مسترد کر دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ الیکٹرک شاک گلوز کا ماضی میں استعمال خطرناک رہا ہے اور ان سے ہونے والی اموات یا شدید چوٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں حراستی مراکز میں رکھنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ یہ معاملہ اب صرف ایک خریداری تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر ایک نئی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید قانونی قانونی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ کانگریس کے کچھ ارکان نے بھی اس خریداری کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کرے اور متبادل، پرامن سیکیورٹی طریقوں کو اپنائے۔