Technology
اے آئی کی بڑھتی بجلی کی ضروریات اور انوکھے سائنسی تجربات
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے بجلی کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے سائنسدان انتہائی جدید اور حیران کن ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ ان کوششوں میں ایٹمی توانائی کے حصول سے لے کر بائیولوجیکل کمپیوٹنگ جیسے غیر روایتی طریقے شامل ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے دور میں ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے اور سائنسدان ایک ایسے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں جس کا تعلق توانائی کے وسائل سے ہے۔ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز کی کمپیوٹنگ طاقت بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے ان کو چلانے کے لیے درکار بجلی کی کھپت میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے اسٹارٹ اپس اور محققین اب روایتی بجلی کے ذرائع سے ہٹ کر انتہائی انوکھے اور حیران کن طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس دوڑ میں اربوں ڈالرز کے حکومتی اور نجی معاہدے داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔
اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو بائیولوجیکل کمپیوٹنگ ہے، جس کے تحت سائنسدان مصنوعی ذہانت کے نظام کو چوہوں کے دماغی خلیات کے ساتھ جوڑنے یا بائیولوجیکل نیورونز سے متاثر ہو کر کارکردگی بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد اے آئی کی بجلی کی کھپت کو کم کر کے اسے انسانی دماغ کی طرح توانائی کے لحاظ سے زیادہ موثر بنانا ہے۔ دوسری جانب، سمندری لہروں سے پیدا ہونے والی توانائی کو بھی اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک مستحکم ذریعہ بنانے پر تحقیق جاری ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کوئلے اور گیس پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
دوسری جانب فزکس کے ماہرین طویل عرصے سے جس 'نیوکلیئر ہولی گریل' یعنی ایٹمی فیوژن کی تلاش میں تھے، اب اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اگر ایٹمی فیوژن کے ذریعے لامحدود اور صاف توانائی کا حصول ممکن ہو گیا تو یہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ایٹمی انٹرپرینیورز اس ٹیکنالوجی کو کمرشل پیمانے پر لانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں تاکہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی بھوک کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔
مستقبل کے یہ سائنسی تجربات صرف تکنیکی جدت نہیں بلکہ انسانی بقا اور ترقی کے لیے ایک ضرورت بن چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی کو پائیدار توانائی کے ذرائع فراہم نہ کیے گئے تو اس کی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ فی الحال، دنیا بھر کے سرمایہ کار ان پروجیکٹس میں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں، اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند برسوں میں ہم توانائی کے حصول کے ان جدید طریقوں کو عملی شکل میں دیکھیں گے۔