LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹرتھ سوشل سروس قانونی تنازع کا شکار

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر پوسٹس تک جلد رسائی کے عوض پیسے لینے والی سروس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ دو میڈیا اداروں کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سروس کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ملکیتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹرتھ سوشل' ایک نئے قانونی تنازع کی زد میں آ گیا ہے۔ نیویارک کی ایک عدالت میں بدھ کے روز دو میڈیا اداروں کی جانب سے ایک اہم درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی اس نئی سروس کو چیلنج کیا گیا ہے جو صارفین کو پلیٹ فارم پر موجود پوسٹس تک جلد رسائی کے عوض رقم ادا کرنے کا پابند بناتی ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ سروس شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے اور اسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ مذکورہ مقدمے میں اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹرتھ سوشل پر شیئر کی جانے والی بہت سی پوسٹس اتنی بااثر ہوتی ہیں کہ ان کے ذریعے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ شکایت کنندگان کا استدلال ہے کہ جب کچھ منتخب افراد پیسوں کے عوض ان پوسٹس تک جلد رسائی حاصل کر لیں گے، تو وہ مارکیٹ میں غیر منصفانہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو سرمایہ کاری کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس صورتحال کو مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا جا رہا ہے جس سے سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات کے مطابق، یہ سروس نہ صرف مسابقتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عوامی سطح پر معلومات کی فراہمی کے عمل کو بھی مشکوک بناتی ہے۔ مدعیوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ٹرتھ سوشل انتظامیہ کو اس 'پیڈ ایکسیس' سروس کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔ اس مقدمے نے امریکہ کے سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لیڈروں کے بیانات کو صرف ادائیگی کرنے والے صارفین تک محدود رکھنا اخلاقی اور قانونی طور پر درست ہے یا نہیں۔ اب تک اس مقدمے پر ڈونلڈ ٹرمپ یا ٹرتھ سوشل کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ضوابط اور ان پر موجود مواد کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں عدالت کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ آیا پلیٹ فارمز اپنے مواد کو 'پریمیم' سروسز کے ذریعے محدود کرنے کے مجاز ہیں یا نہیں۔ اس کیس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ اس کے اثرات براہ راست امریکی سیاست اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔