Business
سنگاپور میں ٹیک جاب چھوڑ کر ہاکر اسٹال شروع کرنے والے نوجوان کی کہانی
سنگاپور کے ایک 30 سالہ نوجوان نے 10 ہزار ڈالر ماہانہ کی شاندار کارپوریٹ ملازمت چھوڑ کر ہاکر اسٹال شروع کرنے کا غیر روایتی فیصلہ کیا ہے۔ یہ نوجوان اپنی محنت سے روایتی 'ہوکین می' ڈش تیار کر رہا ہے اور اب اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
سنگاپور کے کاروباری منظرنامے میں ایک منفرد مثال سامنے آئی ہے جہاں 30 سالہ نوجوان نے اپنی مستحکم اور شاندار کارپوریٹ زندگی کو خیرباد کہہ کر ہاکر اسٹال کے روایتی کاروبار کا رخ کیا ہے۔ اس نوجوان کی کہانی اس وقت خبروں کی زینت بنی جب اس نے بتایا کہ وہ 10 ہزار سنگاپوری ڈالر ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والی ٹیک جاب چھوڑ کر اب 'ہوکین می' جیسی روایتی ڈش فروخت کر رہا ہے۔ اس اقدام نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ آج کل کے دور میں نوجوان کارپوریٹ نوکریوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، لیکن اس نے اپنی ذاتی اطمینان اور شوق کو ترجیح دی۔
اس نوجوان کا ماننا ہے کہ ہاکر کا کام محنت طلب ضرور ہے لیکن اس میں ایک الگ طرح کی آزادی اور اطمینان پایا جاتا ہے۔ اپنے کاروبار کو کامیابی سے چلانے کے لیے وہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کر رہا۔ تاہم، بڑھتے ہوئے اخراجات اور کاروباری چیلنجز کے پیش نظر، اس نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اس کی آمدنی کا حصہ 10 فیصد تک گر گیا تو اسے قیمتوں میں اضافے پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اس کے لیے آسان نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ قریبی تعلق اور ان کی قوتِ خرید کو بھی مدنظر رکھنا چاہتا ہے۔
فی الحال وہ ایک پارٹنر یا اسسٹنٹ کے ساتھ کام کر رہا ہے لیکن کاروبار کو مزید وسعت دینے کے لیے اب وہ مستقل عملہ رکھنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ ایک مستقل ورکر کی خدمات حاصل کرنا اس کے لیے ایک بڑا قدم ہوگا جس سے وہ اپنی ورک لوڈ کو کم کر سکے گا اور ڈش کے معیار کو مزید بہتر بنا سکے گا۔ اس کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کامیابی صرف بڑی بڑی عمارتوں کے دفاتر میں نہیں بلکہ اپنے شوق اور مہارت کے ساتھ محنت کرنے میں بھی چھپی ہوتی ہے۔
اس نوجوان کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنی نوکریوں سے مطمئن نہیں ہیں اور زندگی میں کچھ نیا اور منفرد کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ہاکر اسٹال چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس میں بھی مارکیٹ کے سخت مقابلے کا سامنا ہے، لیکن اس کی ہمت اور عزم اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا وہ اپنے اس نئے شعبے میں کارپوریٹ کیریئر سے بھی زیادہ منافع اور سکون حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔