LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی اور تعلیمی نظام: سیکھنے کی صلاحیت کو درپیش چیلنجز

News Image
مصنوعی ذہانت کی ماہر فائی فائی لی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کا تعلیمی میدان میں سب سے بڑا نقصان طلبہ میں سیکھنے کی خواہش اور جستجو کا ختم ہونا ہے۔ انہوں نے اے آئی پر مکمل پابندی کے بجائے اسے ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں 'گاڈ مدر' کے نام سے جانی جانے والی ممتاز ماہر فائی فائی لی نے جدید ٹیکنالوجی کے تعلیمی نظام پر اثرات کے حوالے سے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا خطرہ صرف یہ نہیں ہے کہ طلبہ اس کے ذریعے نقل کریں گے یا اسائنمنٹس مکمل کروائیں گے، بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے طلبہ کے اندر سیکھنے کی فطری خواہش، جستجو اور خود کار صلاحیت یعنی 'ایجنسی' ختم ہو سکتی ہے۔ فائی فائی لی کے مطابق، جب طلبہ ہر مشکل کام کے لیے اے آئی پر انحصار کرنے لگتے ہیں، تو ان کے دماغی ارتقا اور تنقیدی سوچ کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت پر مکمل پابندی لگانے کی مخالفت کی ہے۔ فائی فائی لی کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینا عملی حل نہیں ہے کیونکہ یہ موجودہ دور کی ناگزیر حقیقت ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے سیکھنے کے عمل کو مزید موثر اور آسان بنایا جا سکے۔ تاہم، اس کے لیے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو نئے لائحہ عمل مرتب کرنے ہوں گے تاکہ طلبہ صرف نتائج حاصل کرنے کے بجائے علم کو سمجھنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ماہرین تعلیم بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اگر اے آئی کا استعمال طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو دبانے کے لیے کیا گیا تو یہ تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا المیہ ہوگا۔ فائی فائی لی نے تجویز دی ہے کہ نصاب میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جہاں طلبہ کو اے آئی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی تربیت دی جائے، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ بھی سکھایا جائے کہ اپنی انفرادی سوچ اور تجزیاتی صلاحیتوں کو کیسے زندہ رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی ایک 'ٹیچر' کا متبادل نہیں ہو سکتی بلکہ یہ ایک 'اسسٹنٹ' ہے، اور تعلیمی عمل میں انسانی جذبات اور استاد کی رہنمائی کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی۔ آخر میں، فائی فائی لی نے والدین اور پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو روکنے کے بجائے اس کے متوازن استعمال کے لیے معیارات قائم کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر اے آئی کو ذمہ داری کے ساتھ تعلیمی ماحول میں شامل کیا گیا تو یہ طلبہ کی سیکھنے کی رفتار کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ طلبہ اپنی علمی بیداری اور سیکھنے کے شوق کو برقرار رکھیں۔ تعلیمی دنیا کو اب اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے اس طوفان میں اپنی بنیادوں کو کیسے محفوظ رکھتے ہیں اور طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے جلا بخشتے ہیں۔