LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی موت کی خبریں: حقیقت اور وضاحت

News Image
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی موت سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاک فوج نے ان بے بنیاد دعووں کی تردید کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں گزشتہ کچھ دنوں سے ایک عجیب اور تشویشناک صورتحال دیکھنے میں آئی جب سوشل میڈیا اور کچھ غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی موت سے متعلق جھوٹی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اس افواہ نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی بلکہ پی ٹی آئی کے کارکنان میں شدید اضطراب پیدا کر دیا۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اس خبر کے بعد پاک فوج نے اپنی نوعیت کا ایک نایاب اور غیر معمولی ردعمل جاری کیا جس میں ان تمام دعووں کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا گیا۔ اس معاملے کی ابتدا تب ہوئی جب ایک صحافی کی جانب سے عمران خان کی طبیعت کے حوالے سے غیر مصدقہ اور گمراہ کن بیانات سامنے آئے، جس کے بعد انٹرنیٹ پر افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی جیل میں صحت کی صورتحال کے پیش نظر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو درپیش خطرات کے بارے میں افواہیں پھیلانا ایک منظم سازش کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد عوام میں اشتعال پیدا کرنا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی ہے۔ امریکہ کے قانون سازوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں قید کے حالات کو بہتر بنایا جا سکے اور انہیں بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔ پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اس پورے تناظر میں اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر تصدیق کے کسی بھی خبر پر یقین نہ کریں اور کسی بھی قسم کی انتشار انگیز مہم جوئی سے گریز کریں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی خبریں پاکستان کے سیاسی اور سیکیورٹی حالات کو مزید پیچیدہ بنانے کی کوشش ہیں۔ پی ٹی آئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر عمران خان کی صحت اور سیکیورٹی کے معاملات پر غیر سنجیدگی برتی گئی تو ملک بھر میں احتجاجی لہر اٹھ سکتی ہے۔ فی الحال، عمران خان کی صحت اور ان کی جیل میں موجودگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔