LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ پر مبینہ ایرانی حملہ: اسرائیلی انتباہ پر امریکی شکوک و شبہات

News Image
امریکی خفیہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ ایرانی حملے کی سازشوں سے متعلق اسرائیلی انتباہات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس صورتحال کے باوجود ٹرمپ کی سیکیورٹی کے پیش نظر طیاروں کی تبدیلی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
امریکی خفیہ اداروں اور حکومتی ذرائع نے ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے کچھ عرصہ قبل امریکی حکام کو متنبہ کیا گیا تھا کہ ایران ٹرمپ کی جان کو خطرہ لاحق کرنے کی کوشش میں ہے، تاہم امریکی تفتیشی اداروں کے پاس ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ کی سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف نوعیت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس معاملے نے اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کی جب ڈونلڈ ٹرمپ کے فضائی سفر کے دوران 'ایئر فورس ون' یا ان کے ذاتی طیارے کی تبدیلی کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انتباہ کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ٹرمپ نے ایک چال چلی اور اصل پرواز کے بجائے ایک دھوکہ دہی والی پرواز (ڈیکوئے فلائٹ) کا سہارا لیا۔ اسی دوران روبیو اور بیسنٹ جیسی اہم شخصیات کو اسی دھوکہ دہی والی پرواز پر رکھا گیا تاکہ حقیقی طیارے کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا جا سکے۔ یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم مسلسل سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے محتاط اقدامات کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین تناؤ کافی عرصے سے برقرار ہے اور ماضی میں بھی ایران کی جانب سے امریکی شخصیات کو نشانہ بنانے کی مبینہ دھمکیوں کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، امریکی حکام کا یہ کہنا کہ اسرائیلی انتباہ کی تصدیق نہیں ہو سکی، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی خفیہ معلومات کے تبادلے اور ان کی تصدیق کے عمل میں اب بھی کافی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور ان کی سیکیورٹی کے ارد گرد موجود یہ ماحول دراصل ان کے سیاسی حریفوں اور دشمنوں کے خلاف ایک بڑا بیانیہ تیار کرنے کا حصہ ہو سکتا ہے۔ فی الحال، امریکی محکمہ انصاف اور دیگر متعلقہ ادارے ٹرمپ کی حفاظت کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں، کیونکہ حالیہ مہینوں میں ان پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کی کوششوں نے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ ایران نے براہ راست ان الزامات کو مسترد کیا ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات پر عدم اعتماد، خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی صدارتی انتخاب سے متعلق سیکیورٹی چیلنجز مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور حکام کو ان تمام انتباہات کی جانچ پڑتال کے لیے مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔